چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں دوسری بار فیض احمد فیض کے اس کلام کو عملی جامہ پہنایا گیا،ایک وہ وقت جب ذوالفقار علی بھٹو جیسے مرد مجاہد اور مرد قلندر کو اس کی خارجہ پالیسی اورسامراجی قوتوں کے مقابل کھڑے ہونے کی پاداش میں تختہ دار پر لٹکا د،کیونکہ زلفی بھٹو وہ جانثار پاکستان تھا جس نے ملکی سالمیت اور وقارپر سامراجی قوت کے سامنے سر جھکا نے کے بجائے نعرہ حق بلند کیا، مگر صد افسوس کہ وہ اپنے لوگوں کی غلامانہ سوچ اور اغیار کی ساز بازکا شکار ہو کر پاکستان کےعوام کو ظالموں کی قید سے آزاد نہ کرا سکا، لیکن جتنا عرصہ زلفی بھٹو بر سر اقتدار رہا وہ اغیار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ڈٹا رہا ، اپنے ملک کو اس قابل کیا کہ دوسری قوتیں ہمیشہ پاکستان کو اپنے دام میں لینے کیلئے سازشیں کرتے رہے اور تب تب وہ کامیاب ہوئے جب کچھ ضمیر فروش اور کینہ فطرت لوگوں نے اپنے وطن سے غداری کر کے ان کے ہاتھ مضبوط کئے۔اور آج پھر سے وہی بساط بچھائی گئی اک اور مرد مجاہد کو ہرانے کیلئے ، لیکن کسی نے لمحہ بھر کو نہ سوچا کہ یہ سازش محض ایک سربراہ کے خلاف نہیں یہ 22 کروڑ عوام کے خلاف سازش ہے۔

 

میرے خیال میں 22 کروڑ محب وطن میں انگلیوں پر گنے جانے والے چند غلام ابن غلام ہوں گے جنھیں وطن عزیز سے بڑھ کر آقاوں کی خوشی عزیز ہے وگرنہ کون اپنی آزادی ، وقار ، سالمیت اور اپنا تشخص کسی کو فروخت کرتا ہے ۔اللہ پاک نے یہ کالک ان کا مقدر کی ہے جو اپنی ذات کی قید میں ہیں اور ان کا نفس اس بھوکے کتے کی مانند ہے جو کھا کھا کر بھی بھونکتا رہتا ہے۔

 

"جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے

نظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے

ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشاد

کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد ؛"

اور اپنی بھوک مٹانے کیلئے اپنے وجود کا ٹکڑا ہی دوسرے کے چند ٹکوں کے عوض بیچ دیتے ہیں اور چور دروازے سے داخل ہونیوالوں کے سہولت کار بنتے ہیں اور دل خون خون تب ہوتا ہے جب ہوس کے بھوکے کتوں کی ہڈی کا انتظام پاکستان میں عزت اور وقار کے منصب پر فائز عظمی اور عالیہ ملوث پائی جاتی ہیں ۔

 

مگر یہ غدار یہ یکسر فراموش کر بیٹھے ہیں کہ 22 کروڑ کی محبت محض ایک فرد واحد پر ختم نہیں ہوتی جو وطن پرست ہوتے ہیں ان کا اوڑھنا بچھونا ان کی ارض پاک ہوتی ہے ، اس کی خوشحالی ہوتی ہے اور وہی شخص ان کی محبتوں کا حقدار ٹھہرتا ہے جو ان کے ملک کا خیر خواہ ہوتا ہے ، دلوں میں گھر ان کے نہیں بنتے جو چور دروازے سے داخل ہوتے ہیں ، جو سامراجیت کے تلوے چاٹتے ہیں اور اغیار کے ٹکوں پر رات کے پہر گھنگھرو باندھ کر ان کے قدموں پر اپنی ردا قربان کر دیتے ہیں ،

 

عوام یاد رکھتی ہے زلفی بھٹو اور عمران خان جیسے مرد قلندر کی جو اپنے نفس کو مار کر ، دولت کو ٹھکرا کرقوم سے محبت کا حق ادا کرتے ہیں ۔

 

"بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی

کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں

 

گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے

یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں

گر آج اوج پہ ہے طالع رقیب تو کیا

یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں

جو تجھ سے عہد وفا استوار رکھتے ہیں

علاج گردش لیل و نہار رکھتے ہیں

(فیض احمد فیض)

 

(نوٹ:مندرجہ بالاتحریربلاگرکاذاتی نقطہ نظرہوسکتاہے،ادارہ کااس سے متفق ہوناضروری نہیں)