امتیازی سلوک

امتیازی سلوک

امتیازی سلوک تمام معاشروں میں عام  ہے۔ یہ کچھ لوگوں کے ساتھ غیر مساوی سلوک یا مختلف رویہ رکھنے کا نام ہے۔ امتیازی سلوک اس وقت ہوتا ہے جب کسی کے ساتھ اس کی نسل، مذہب، عمر، قومیت اخلاقی پس منظر ذات یا جنس کی وجہ سے دوسروں سے بہتر یا تلخ سلوک کیا جاتا ہے۔ سماجی ماہر نفسیات نے عام طور پر اس کے نفسیاتی پس منظر کے مطالعے کے سلسلے میں امتیازی سلوک کا جائزہ لیا ہے، جیسے دقیانوسی تصورات (Fiske, 1998) امتیازی سلوک ذریعہ اظہار کے لحاظ سے مختلف شکلیں اختیار کرتا ہے۔ یہ ادارہ جاتی، مجموعی اور انفرادی ہو سکتا ہے۔ سماجی گروہوں کی تفریق اس وقت ادارہ جاتی اور معاشرتی ہو سکتی ہے جب بعض گروہوں کی زندگیاں خاص قوانین سے گھری ہوئی ہوں جو ان کے طرز زندگی یا انسانی حقوق کو محدود کرتے ہیں۔

 

 آج میں اس امتیاز کے بارے میں بات کرنے جا رہی ہوں جو پاکستانی ثقافت میں گھروں اور کام کی جگہوں پر نمودار ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ہم اپنے بھائی یا چچا وغیرہ کے لیے لڑکی دیکھنے جاتے ہیں تو ایسے میں بھلا کسی مس یونیورس کی تلاش اور ساتھ ہی ساتھ بھاری بھرکم جہیز کے مطالبے کی کیا ضرورت ہے؟ ہمیں بہترین شیف، چیمبر میڈ، لانڈری لیڈی،آخر ایسا کیوں ہے کہ ہماری مطلوبہ پری کو بہ یک وقت بہترین باورچی ، خادمہ، دھوبی اور نرس ہونے کے ساتھ ساتھ سرکاری عہدیدار ہونا چاہیے اورڈھیروں جہیز بھی ساتھ لانا چاہیے جس میں  کاریں، سونا، بھینسیں اور پلاٹ سب کچھ ہو۔

 

ابھی حال ہی میں میں اپنے شوہر سے اس معاملے پر گفتگو کر رہی تھی تو انہیں یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ لوگ اب بھی جہیز مانگتے ہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ میری اپنی کزن بہنوں کی شادیاں دیر سے ہونے کی یہی وجہ بنی رہی۔ کیونکہ ان کے بھائیوں کو بیرون ملک جانے اور محنت سے پیسے کمانے اور پیسے جوڑ کے اوپر گنوائی گئی اشیا کی فراہمی میں وقت تو لگنا ہی تھا تاکہ وہ اپنی بہنوں کی شادی کے لیے معقول برڈھونڈ سکیں۔

 

 آخر کیوں اسلام کے مطابق ایک بالکل حلال اور پاکیزہ چیز کو اس قدر مشکل بلکہ سراسر ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ میں اپنے کچھ رشتہ داروں کو جانتی ہوں جنہوں نے کام کرنے والی خواتین کو اپنی بہو کے طور پرمنتخب کیا مگر سمجھا انہیں اے ٹی ایم مشین ہی! حالانکہ عمر اور شکل وصورت  کے لحاظ سے ان بیچاروں کا ان خواتین کے بیٹوں سے کوئی جوڑنہیں تھا۔

 

شادی ہمارے کلچر میں ایک کاروبار بن چکی ہے۔ اگر کوئی عورت کسی لڑکے کے ساتھ نکاح کرنا چاہتی ہے تو وہ اپنے والدین کو نہیں بتا سکتی اور اگر وہ ایسا کرتی ہے تو ایک لمبی چیکنگ شروع ہو جائے گی۔ یعنی پنجابی/سرائیکی/پشتون/سندھی/بلوچی، امیر/غریب، آرائیں/جٹ/رانا/ملک /راجپوت کی لمبی بحث۔ پھر سوالات کی بھرمار۔ کیا وہ پہلے شادی کرچکا ہے؟ عمر، بہنوں کی تعداد، والدین زندہ ہیں یا نہیں، گھر اپنا ہے یا کرایہ پر،حق مہر کتنا ہو گا؟

 

خدا جانے یہ اصطلاحات کہاں سے آتی ہیں۔ والدین نے یہ سب چونچلے کیسے سیکھے؟ ان کو یہ باتیں کس نے سکھائیں؟ میرا سوال تو ایسے میں یہ ہوتا ہے کہ بھئی جب آپ کی اپنی شادی ہوئی تواس وقت آپ کتنے امیر اور خوشحال تھے؟ میں خود پی ایچ ڈی ہوں لیکن آج تک میں نے قرآن یا حدیث میں کہیں نہیں پڑھا کہ آپ کو ان چیزوں کی ڈھنڈیا پڑنی چاہیے۔ میں نے تو قرآن پاک میں پڑھا ہے کہ

  

اے لوگو، بے شک ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تم میں سے قومیں اور قبیلے بنائے ہیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔ بے شک اللہ جاننے والا اور باخبر ہے۔

  القرآن)   49:13 (

 

جیسا کہ ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے شہرہ آفاق آخری خطبے میں ارشاد فرمایا ۔ " کسی عربی کو عجمی پر نہ کسی عجمی کو عربی پر، کسی، گورے کو کالے پر نہ کالے کو گورے پر، کوئی فضیلت حاصل نہیں سوائے تقویٰ اور راستبازی کے۔

 

یہاں میں آپ کے آگے چند سوالات رکھنا چاہتی ہوں لیکن ان کے جوابات آپ کو مجھے نہیں بلکہ خود کو دینے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ ایک خاتون ہیں تو پھرآپ ایسے امیر آدمی کو کیوں ڈھونڈ رہی ہیں جس کا خاندان نہ ہو، جو اونچا لمبا، سوہنا ہو،فرمانبرداراور وفادارہو، مذہبی ضرور ہو لیکن جدید بھی ۔۔۔ وغیرہ؟ اگر آپ مرد ہیں، تو آپ مس نیورس کو کیوں ڈھونڈ رہے ہیں، جو آپ کے والدین کی دیکھ بھال کر سکے، ڈھیروں جہیز لا سکے، کبھی ایک لفظ نہ بولے اور بس آپ جو چاہیں وہ کرے۔

 

ارے بھئی کیا آپ کسی شخص سے شادی کر رہے ہیں یا غلام خرید رہے ہیں؟ آپ سیدھی طرح کسی ماہرفن چینی فرم کو فون کرکےاپنے لیے روبوٹ بنانے کو کیوں نہیں کہہ دیتے؟ کیا آپ کو لگتا ہےکہ آپ خود انسان کامل ہیں؟ اگرنہیں تو کمال کی تلاش میں کیوں ہو؟ کوئی بھی پرفیکٹ نہیں ہوتا، ہم سب اپنی خامیوں کے ساتھ آتے ہیں اور یہی چیز ہمیں وہ سب کچھ بناتی ہے جو کہ ہم ہیں۔

 

کہیں ایسا تو نہیں کہ اپنے معیارات کو ازحد بلند کرکے ہم نکاح کو تقریباً ناممکن بنا رہے ہوں۔ اگر ہماری شادی تقریباً ریٹائرمنٹ کی عمر میں ہونےجارہی ہے تو پھر شادی کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے۔

 

 پتا نہیں ہم اپنے آپ کو اپنے مذہب سے زیادہ عقلمند کیونکر سمجھ بیٹھے ہیں؟ اسلام جوانی میں قدم رکھتے ہی شادی کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ مانا کہ ہر ایک کے لیے صورتحال تھوڑی بہت مختلف ہوسکتی ہے، تاہم عام طورپر یہ نوعمری ہی میں ہونی چاہیے۔ مردوں کے لیے بلوغت سے  بیس کی دہائی تک اور خواتین کے لئے نسبتا مزید کم۔

 

یوں تو یہ بات جدید معیارات کے مطابق ذرا عجیب سی لگتی ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک بڑا مقصد کارفرما ہے۔ اور وہ یہ کہ چھوٹی عمر میں شادی کا فائدہ ہے اس عمر کے ساتھ نازل ہونے والی وجودی مایوسی سے مقابلہ اور بے حیائی سے بچاو، جو کہ آج کل مسلم ممالک سمیت ہر جگہ ایک مسئلہ بن چکا ہے۔

 

نیک لوگ جو اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارتے ہیں جس میں غیر اخلاقی زندگی گزارنے کے طریقوں سے پرہیز بھی شامل ہے، اللہ کریم کا ان سے یہ وعدہ  ہے کہ وہ انہیں ان کی ضروریات کے مطابق رزق عطا کرے گا۔ چنانچہ ایسے بہانے جیسے کہ کوئی شخص شادی کے لیے چھوٹا ہے یا خاندان پالنے کے لیے  کم عمر ہے، گھر کی کفالت کے لیے ناکافی ہے وغیرہ۔۔۔ یہ سبھی عذرلنگ ہیں، بلکہ یہ بہانے صرف اللہ تعالیٰ کی پاک ذات پر بےاعتمادی کو ظاہر کرتے ہیں۔

 

در حقیقت ہزاروں برس سے یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ لوگ کم عمری میں شادی کر کے مطمئن زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ تو ابھی حال ہی کی بات ہے کہ دیر سے شادی کرنے یا سرے سے نہ کرنے کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ دیکھا جائے تو شادی انسان کو ذمہ دار فرد بناتی ہے، کئی پریشانیوں سے دور رکھتی ہے، اسے زندگی میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے لیے اکساتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شادی کا بندھن انسانوں کو ایک دوسرے سے پکی سچی محبت کے رشتے میں باندھ دیتا ہے۔ اس طرح آپ کو بچوں کی ذمہ داریاں بروقت پوری کرنے کا موقع مل جاتا ہے کیونکہ ابھی آپ خود جوان ہوتے ہیں لہذا زندگی کی سرگرمیوں کے لیے پرجوش ہوتے ہیں، آپ اپنی تعلیم مکمل کرنے پر قادر ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ جوان اور تندرست رہتے یوئے زندگی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ ان سب نعمتوں کے لیے آپ کو صرف اللہ پر توکل ہی تو کرنا ہے اوربس۔

 

اسلام میں شادی کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں۔ اس بارے میں یک متفقہ حدیث موجود ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے  بخاری (5066) اور مسلم (1400) نے بحوالہ ابن مسعود  روایت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں:  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہم ایسے نوجوان تھے جن کے پاس مال نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: اے نوجوانو، تم میں سے جو بھی استطاعت رکھتا ہو ضرور شادی کر لے، کیونکہ یہ نظریں نیچی رکھنے اور عفت کی حفاظت کرنے کے لیے بہتر ہے۔ اور جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کے لیے ڈھال ہے۔

 

ایک اور حدیث بخاری (5030) اور مسلم (1425) میں سہل بن سعد سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ! شادی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اوپر نیچے دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر جھکا لیا۔ جب عورت نے دیکھا کہ آپ نے اس بارے میں کوئی فیصلہ صادرنہیں کیا تو وہ بیٹھ گئی۔ ان کے ساتھیوں میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ اگر آپ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں تو پھر ان کا مجھ سے  نکاح پڑھوا دیں۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ اس صحابی نے کہا: نہیں، بخدا نہیں، یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: "اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ اور دیکھو کیا وہ تمہیں کچھ دے سکتے ہیں۔" چنانچہ وہ چلا گیا، پھر واپس آیا اور عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم، یا رسول اللہ، لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں، صرف میرا یہ زیر جامہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہارے لباس کا کیا کرے گی؟ اگر تم اسے پہنو گے تو اس کے پاس اس میں سے کچھ نہیں ہوگا اور اگر وہ پہن لے گی تو تمہارے پاس اس میں سے کچھ نہیں ہوگا۔ وہ آدمی بیٹھ گیا، اور کافی دیر بیٹھنے کے بعد آخر وہ جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاسے منہ پھیرتے ہوئے دیکھا تو حکم دیا کہ اسے پاس بلایا جائے۔ جب وہ آیا تو آپ نے فرمایا: تم قرآن کے بارے میں کتنا علم رکھتے ہو؟ اس نے کہا: مجھے فلاں فلاں سورہ یاد ہے ۔ آپ نے فرمایا: کیا تم انہیں دل سے پڑھتے ہو؟ صحابی نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: جاؤ تمہارے ساتھ اس عورت کا نکاح اس لیے کردیا گیا کہ تم قرآن کا علم رکھتے  ہو۔

 

یہ دونوں حدیثیں ایک دوسرے سے متناقض نہیں بلکہ  الحمد للہ  ان میں سے ہر ایک مخصوص صورتحال کی بابت رہنمائی کرتی ہے۔ ابن مسعود کی حدیث نوجوانوں اور شادی کے عام خواہشمندوں کومخاطب کرتی ہے اور اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ شادی کے لیے مادی وسائل کا ہونا ضروری ہے تاکہ شوہر وہ فریضہ ادا کرسکے جو نبھانے کا اسے حکم دیا گیا ہے۔ یعنی اپنی بیوی کی دیکھ بھال اور اس کے لیے روٹی کپڑے مکان کا بندوست۔

 

 گویا قانون دینے والے نبی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اس اصول کو واضح کرنا چاہتے تھے کہ شادی محض ایک معاہدہ یا جائز طریقے سے کسی کی خواہش کی تکمیل کا نام نہیں بلکہ اس کی ذیل میں سب  ذمہ داریاں اور فرائض بھی آتے ہیں، چنانچہ اصول دین کے مطابق مرد ہی اپنی بیوی کی کفالت کا ذمہ دار ہے۔

 

آخر میں میں صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ براہ کرم مجھے بتائیں کہ اگر آپ اپنے دینی و دنیاوی فرائض سے روگردانی کے مرتکب ہوں تو کیا قیامت کے دن آپ کی بخشش محض اس بنا پر ممکن ہو گی کہ  آپ مثال کے طور پر جٹ ہیں یا گورے چٹے ہیں، یا پھر امیر ہیں یا آپ کی عمر کتنی یا جنس کونسی ہے؟؟

 

آپ سب ہمیشہ خوش و خرم رہیں، آمین 

اللہ تعالیٰ ہمیں آسانیاں عطا فرمائے اور دوسروں کے لیے آسانیاں پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین

 

 (نوٹ:مندرجہ بالاتحریربلاگرکاذاتی نقطہ نظرہوسکتاہے،ادارہ کااس سے متفق ہوناضروری نہیں)