• Thursday, 29 September 2022
شرم تم کو مگر نہیں آتی!

شرم تم کو مگر نہیں آتی!

ملک عزیز کے موجودہ حالات پر یقینا ہر فرد کا دل خون کے آنسو روتا ہوگا ، ماسوائے ان کے جنھوں نے پاکستان کا وقار، احترام اور سکون پس پشت ڈال رکھا ہے

 

آجکل جو مناظر آنکھیں دیکھ رہی ہیں اور جو خبریں سماعتوں سے ٹکراتی ہیں، اک عجب سا تماشہ لگتا ہے ، جہاں سیاستدان مداریوں کا بہروپ دھارے مختلف تماشے رچائے ہوئے ہیں اورکوئی لمحہ بھر کو سوچنے کا روادار نہیں کہ ہمارے ملک پاکستان کا وقار،  استحکام اور بھرم کانچ کی مانند کرچی کرچی ہو رہا ہے۔

 

کرسی کی ہوس دیوانہ بنا رہی ہے اور ہر ذی شعور اس دیوانگی میں شعور اور بردباری کے دائرے سے نکل کر محض اپنے مفاد ، اپنی طاقت کے حصول کیلئے اخلاقی پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرا جا رہا ہے۔ کرسی کی اجاداری قائم کرنے کیلئے اپنے کردار اتنے پست کر چکے کہ ملکی وقار کا خیال بھی لازم نہیں رہا،

 

 ارض پر پاکستان کا تشخص ان لالچ زدہ اور ہوس زدہ سیاستدانوں کی وجہ سے بگڑ چکا ، پہلے برسراقتدارتھے تو اپنے نفس کے ہاتھوں مجبور ہوکر پاکستانی سالمیت کے سودے کرتے رہے اور اب مگر مچھ کے آنسو بہانے جا رہے ہیں کہ ہم سے ملک کی یہ حالت دیکھی نہیں جاتی !!

 

او ظالمو! ملک کی یہ حالت بنانے والے تم ہی تو ہو ، ملک کی جگ ہنسائی کےمواقع اغیار کو مہیا کرنے والے تم ہی تو ہو ، یہ وطن عزیز کی خدمت کا بخار نہیں یہ تمھاری اقتدار کی ہوس کا بخار تمھارے دماغوں کو چڑھا ہے جو تم یہ عقل و خرد سے بے بہرہ ہو چکے ہو۔

 

اسطرح فرضی اجلاس منعقد کر کے خود کو فرضی عہدہ ہائے اعلی پر فائز کر کے کیا بتلانا چاہتے ہو کہ تم ہی فقط ان عہدوں کے لئے پیدا ہوئے ہو۔آج پاکستان سے محبت کرنے والو سے پوچھ کر دیکھو تو شاید تمھارے سائے سے بھی نفرت کرتے ہوں گے ، جن کا مقصد حیات محض پاکستان کی بقا ، سالمیت اور وقار ہے۔ ان کو تم ایک آنکھ نہ بھاتے ہوگے۔

 

غدار ، غدار کا کھیل کھیلنے والو تمھیں ملک پرست کبھی معاف نہیں کریں گے ، تم ان کی نظر میں پاکستان کے نام پر دھبہ ہو۔

 

پاکستان سے پیار کرنے والے قائد جیسے عظیم رہنما تھے جو اپنے ملک کیلئے جئے اور ملک پر قربان ہوئے ، جنھوں نے کرسی کی لڑائی نہیں لڑی ۔لڑے تو پاکستان کی بقا کیلئے ، ملک و قوم کی سلامتی کیلئے ، اپنے دن رات وقف کئے اس ملک کو دنیا کے نقشے پر عظیم مملکت بنانے کیلئے،

 

"غدار وطن  تھے جو

مالک ہیں زمینوں کے

موروثی سیاست میں

صدیوں کی دغا بھی ہے

 

بازار سیاست ہے یہ

بکتا نہیں کیا کیا یاں

منصف کا قلم بھی ہے

حاکم کی قبا بھی ہے "

(فاروق صدیقی)

 

(نوٹ:مندرجہ بالاتحریربلاگرکاذاتی نقطہ ہوسکتاہے،ادارہ کااس سے متفق ہوناضروری نہیں)