شاد رہےپاکستان

شاد رہےپاکستان

ہرپاکستانی کے دل کی آواز  یہی ہے کہ ان کا وطن عزیزہمیشہ شاد و آباد رہے پاکستان وہ ملک ہے جو نعرہ حق کی بنیاد پر وجود میں آیا ، اس کو بنانے والے قائدین نےاپنی دن رات کی جانفشانی  ، اور اپنی تمام ترنیک نیتی اور ایمانداری کو اپنا نصب العین بنایا قائد اعظم ، حضرت اقبال اوردوسرے تمام رہنماوں نے ہندوستان کےمسلمانوں کیلئےان کا اپنا آزاد ملک تعمیر کرنے کیلئے کوئی کسر روا نہ رکھی ، اور آج ہم اپنے دین کے مطابق آزاد زندگی گزار رہے ہیں ۔

 

ہمارا اپنا علیحدہ تشخص ہے، ہماری آن ہماری شان پورے اقوام عالم کےدرمیان اسلامی جمہوریہ پاکستان کا پرچم  بحثیت ایک مسلم قوم  ہماری عظمت کا نشان بن کر لہراتا ہے۔اب اس وطن عزیز کا شاندار تشخص مضبوط بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔ہمیں اپنے آباو اجداد کی قربانیاں، عزتوں کی پامالیاں اورہرعورت ، بچے اور جوان کےخون کا نذرانہ اپنے ہرمفاد سے بالاترجان کر اس ملک کو سنبھالنا ہوگا ، یہ محض ایک زمین کا ٹکڑا نہیں یہ ہمارے لئے تحفہ خداوندی ہے۔

 

آج کا دن جو شان و شوکت لے کر طلوع ہوا ہے، خدا کرے کہ یہ تابناکی اور یہ متانت ہمیشہ ملک عزیز کا مقدر ہو ، 23 مارچ کی پر شکوہ تقریب کے موقع پر مسلم امہ کے سربراہان کا موجود ہونا اور پاکستان میں او آئی سی کا انعقاد یہ فخر ہے پاکستانی قوم کا ۔بحیثیت مملکت خدا داد کے باسی کے کوئی فرد واحد بھی اس شاد و آباد ملک میں انتشار ، خلفشار ،نفسانفسی اور تصادم کو برداشت نہیں کرے گا اورنہ ہم مفادات کی جنگ میں اس ملک عزیز کی سلامتی اور وقار داو پر لگانے کی اجازت کسی کو دیں گے۔

 

یہ ہر پاکستانی کا ملک ہے ۔نہ کہ فرد واحد اس کو اپنی جاگیر سمجھ کر اسکے تابناک مستقبل ، اس کی عظمت اور بردباری پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرے ۔ہمارا اعجاز  ہمارے لائق سپوت ، جو ہر مرحلے پر پاکستان کا وقار بلند کرنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں ، ہمارے وہ نامور لوگ جن کی اعلی کارکردگی نے پاکستان کو دوسرے ممالک کی صف میں ہمیشہ ایک خاص مقام دلائے رکھا۔

 

ہمارا غرور ہے ہمارا ملک ، اس کے ایماندار سربراہان ، اس کی پر شکوہ افواج ،آج اس خوبصورت دن کے طلوع ہونے پر اس کی فضا میں گونجتی اللہ اکبر کی صدائیں ، اس کے افواج کے دستے ، نیلے آسمان کی بلندیوں پر فلائی  پاسٹ کرتےجہاز، ان کے پروقار انداز

 

"وطن کے جانثار ہیں وطن کے کام آئیں گے

ہم اس زمیں کو اک روز آسماں بنائیں گے ؛"

 

  اور ہروہ نامور سپوت اور اس ملک کی بیٹیاں جو اس کے کشادہ ماتھے کا جھلملاتا جھومر ہیں  اور پاکستان کےسربراہ کا اعجاز ،اسلامی فوبیا کی قرار داد کا منظور ہونا ، ہمارا دین ہمارا ایمان اور مسلمان کا فخر دین اسلام کی تعلیمات اور محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا امتی ہونا ،یہ دو عوامل ایک دین اور ایک وطن بس یہی ہماری زندگی کا مقصد اور نصب العین ہے ۔

 

"وطن کی خاک سے مر کر بھی ہم کو انس باقی ہے

  مزا دامان مادر کا ہے اس  مٹی کے دامن میں ؛"

 

(نوٹ:مندرجہ بالاتحریربلاگرکاذاتی نقطہ نظرہوسکتاہے،ادارہ کااس سے متفق ہوناضروری نہیں)