ایم کیو ایم کارکن کی ہلاکت ہارٹ اٹیک سے ہوئی

ایم کیو ایم کارکن کی ہلاکت ہارٹ اٹیک سے ہوئی

کراچی (نیا ٹائم)صوبائی وزیراطلاعات سندھ سعید غنی  کاکہنا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان  کارکن کی ہلاکت پولیس تشدد سے نہیں  بلکہ ہارٹ اٹیک سے ہوئی ہے ۔

 

سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی کا کراچی میں  نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ  کل  متحدہ قومی موومنٹ پاکستان(ایم کیو ایم) کی  ریلی پر پولیس تشدد کا واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔پاکستان سپر لیگ ( پی ایس ایل) کی  ٹیمیں ریڈزون  کے  ہوٹلوں  میں ٹھہری ہوئی ہیں۔جنہوں نے ہوٹل سے نکل کرگراونڈ میں پریکٹس کیلئے جانا تھا۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے اور سمجھانے کی  کوشش کی مگر ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی نے پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا۔

 

وزیراطلاعات سند ھ کا میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے ممبر سندھ اسمبلی صداقت حسین نے  چار پانچ افراد کے ہمراہ پہلے پولیس پر ڈنڈے برسائے  جس پر پولیس نے جواب دیا۔سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ  نہ چاہتے ہوئے بھی انٹرنیشنل پلئیرز کی وجہ سے پولیس کو ایم کیو ایم کیخلاف یہ ایکشن لینا پڑا۔ اگر ہم کارروائی نہ کرتے تواس معاملے کے  خطرناک نتائج سامنے آسکتے تھے۔وزیرداخلہ شیخ رشید نے کراچی سمیت مختلف شہروں میں سکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا تھا۔

 

 صوبائی وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں دہشتگردی کے حملوں کا خطرہ ہے جبکہ اس ضمن میں  کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوسکتا تھا۔ خواتین کا احترام سب پر لازم ہےاور ایم کیو ایم ہمیشہ خواتین کو آگے کر دیتی ہے  جبکہ ان کی خواتین بھگدڑ مچنے سے زخمی ہوئیں۔سعید غنی کا کہنا تھا کہ ایم کی ایم پاکستان  کے کارکن اسلم کی موت  پولیس تشدد سے نہیں بلکہ ہارٹ اٹیک کی وجہ سے  ہوئی ۔ اسے طبیعت کی خرابی کے  باعث  فیڈرل بی ایریا کے ہارٹ ہسپتال لایا گیا تھا اور اگر پولیس تشدد سے عہدیدار اسلم زخمی ہوا تو اسے قریب این آئی سی وی ڈی یا جناح کیوں نہیں لے جایا گیا ۔

 

 

قانون کی حکمرانی کے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا