پاک افغان بارڈرز پر جدید ترین کسٹمز ہاؤس کے قیام کا فیصلہ

پاک افغان بارڈرز پر جدید ترین کسٹمز ہاؤس کے قیام کا فیصلہ

پشاور ( نیا ٹائم ) چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو ڈاکٹر محمد اشفاق احمد نے پاک افغان بارڈر طور خم اور چمن بارڈرز پر جدید ترین کسٹمز ہاؤس قائم کرنے کا اعلان کر دیا ۔

پشاور میں عالمی کسٹمز ڈے کی تقریب سے خطاب کے دوران چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ سب قانون کے مطابق ٹیکس جمع کروائیں نہیں تو قانون حرکت میں آئے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی مالیاتی بل میں کوئی بھی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا تاہم وصولیوں میں اضافے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ طور خم اور چمن بارڈر پر جدید ترین کسٹمز ہاؤس قائم کر رہے ہیں جس سے سی پیک کو سنٹرل ایشیا سے جوڑا جائے گا ۔

انہوں نے مزید کہا قانون کے تحت ایف بی آر کو اختیار حاصل ہے کہ پی او ایس پر عمل نہ کرنے والوں کو بند کر دیا جائے ۔ ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا ڈیجیٹلائزیشن سے مسائل ہوں گے ۔

انہوں نے کہا جب ہم کسٹمز ڈے مناتے ہیں تو سٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کیا جاتا ہے ۔ تجارت ہمیشہ ملک کی ترقی و خوشحالی کا باعث بنتی ہے ۔ مارکیٹ میں کسی بھی چیز کی قیمت میں اتار چڑھاؤ سے ہم براہ راست جڑے ہوئے ہیں ۔ ایکسچینج ریٹ سے بھی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا براہ راست تعلق ہے ۔

انہوں نے کہا کورونا کے دوران آکسیجن کمی کو پورا کرنے میں بھی ایف بی آر نے اہم کردار ادا کیا ۔ ہمارے پاس ملک کا سب سے بڑا ، مضبوط اور جدید ترین ڈیٹا بیس موجود ہے ۔ ایک ہزار سپاہی بارڈر کی دیکھ بھال کرنے میں مصروف ہیں ۔ ہم طورخم اور چمن بارڈر پر کسٹمز ہاؤسز قائم کر رہے ہیں ۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ 5.8 ٹریلین کی طرف کامیابی سے بڑھ رہے ہیں ، چھ ماہ کے ٹیکس ٹارگٹ ہم نے نہ صرف حاصل کیا بلکہ ہدف سے زائد وصولیاں بھی کی گئیں ۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کر کے ٹیکس ریٹ میں کمی لائی جائے گی ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایف بی آر 160 ارب روپے کے ریفنڈ کی ادائیگی کر چکا ۔ آئندہ 6 ماہ میں ٹیکسز کے درمیان فرق ختم ہو جائے گا ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یوریا کھاد کی سمگلنگ کی شکایات پر بارڈرز پر کارروائی کی گئی ۔

 

رئیل اسٹیٹ سیکٹرپرنئی پابندیاں عائد کردی گئی