پشاور ہائیکورٹ نے نیب کو 15 مارچ  تک وقت دیدیا

پشاور ہائیکورٹ نے نیب کو 15 مارچ  تک وقت دیدیا

پشاور ( نیا ٹائم ) پشاور ہائیکورٹ نے نیب کو مالم جبہ ، بینک آف خیبر اور بلین ٹری سونامی کی انکوائری رپورٹس جمع کروانے کے لیے 15 مارچ تک کا وقت دے دیا ۔ عدالت نے نیب حکام پر سخت برہمی کا اظہار بھی کیا ۔

مالم جبپ ، بینک آف خیبر اور بلین ٹری سونامی انکوائری سے متعلق کیسز کی سماعت پشاور ہائیکورٹ میں جسٹس روح الامین اور جسٹس ارشد علی نے کی ۔

درخواست گزار نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ نیب نے اب تک تینوں کیسز سے متعلق رپورٹس جمع نہیں کروائی ، جس پر جسٹس روح الامین نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اکتوبر سے کیس کی سماعت کر رہے ہیں ابھی تک نیب نے رپورٹ جمع نہیں کروائی ۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب عظیم داد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 75 ایکڑ زمین پر محکمہ جنگلات اور ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے درمیان مسئلہ چل رہا ہے ۔ جس پر جسٹس روح الامین نے کہا اس بات کو چھوڑیں یہ بتائیں محکموں کے درمیان نیب وہاں کیا کر رہا تھا ۔ رپورٹ کا بتائیں ، زمین کسے اور کیسے الاٹ  کی گئی اس سے آگاہ کریں ۔

عدالت نے ریمارکس دئیے کہ عدالت جانتی ہے کہ آپ لوگوں کی کیا مجبوریاں ہیں ۔  ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے عدالت کو بتایا کہ 27 اضلاع میں 5 ہزار 600 سائٹس کی نشاندہی میں وقت درکار ہے ۔ رپورٹس جمع کروانے کیلئے مزید وقت دیا جائے ۔

عدالت نے ریمارکس دئیے کتنے درخت جل گئے ، کتنے پودے خراب ہوئے اور ابھی کتنے درخت موجود ہیں ہمیں ساری رپورٹ دی جائے ۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے مالم جبکہ انکوائری عدالتی حکم کا سہارا لیتے ہوئے بند کر دی ۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے رپورٹ تیار کرنے کیلئے عدالت سے مزید وقت مانگا جس پر عدالت نے 15 مارچ تک وقت دیتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے کر سماعت ملتوی کر دی ۔

 

سندھ میں اجرت25 کی بجائے 19 ہزار کی جائے،سپریم کورٹ