احتجاج و ریلیاں شہر قائد کے شہری خوار ہو گئے

احتجاج و ریلیاں شہر قائد کے شہری خوار ہو گئے

کراچی ( نیا ٹائم ) شہر قائد میں بیک وقت احتجاج و ریلیاں شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بن گئیں ، سڑکیں بند ہونے اور شدید ٹریفک جام سے شہری خوار ہو گئے ۔

کراچی شہر میں جماعت اسلامی کے احتجاج کے بعد ایم کیو ایم پاکستان بھی سڑکوں پر آ گئی ، ایم کیو ایم کی ریلی کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں شدید ٹریفک جام ہو گیا ، جس سے شہریوں کو شدید دقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، دفاتر سے گھروں کو جانے والے سڑکوں پر خوار ہو رہے ہیں ، دفاتر سے چھٹی کے اوقات میں سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ انتہائی بڑھ گیا جس سے لوگ ٹریفک جام کی اذیت میں مبتلا ہیں ۔

سندھ کے متنازع بلدیاتی قانون کے کلاف ایم کیو ایم پاکستان نے احتجاج ریلی کی کال دی تھی ۔ ریلی کے شرکاء نے شارع فیصل سے پریس کلب تک جانے کا اعلان کیا تھا تاہم ریلی شارع فیصل سے شروع ہو کر وزیر اعلیٰ ہاؤس پہنچ کر دھرنے میں تبدیل ہو گئی ۔

وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر پولیس کی بھاری نفری موجود جبکہ ریلی میں کارکنان بھی بڑی تعداد میں موجود تھے ۔ ایم کیو ایم کارکنوں کی جانب سے سندھ حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی ۔

دھرنے اور ریلی کے باعث ٹریفک پولیس نے ٹریفک ایڈوائزری جاری کی تھی جس کے مطابق ایم ٹی خان روڈ سلطان آباد سے پی ڈی سی جانے والی سڑک مکمل طور پر بند کر دی گئی جب کہ پی ٹی آئی فلائی اوور سے ٹریفک مائی کلاچی اور بوٹ بیسن کی طرف موڑ دیا گیا ۔

صدر ، ایم اے جناح روڈ ، لسبیلہ چوک ، تین ہٹی ، پاک کالونی ، گارڈن ، ناظم آباد اور گرو مندر سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں سڑکوں پر ٹریفک کا شدید دباؤ ہے اور متعدد مقامات پر ٹریفک جام کی شکایات ہیں ۔

لسبیلہ سے گرومند کے  راستے پر سیاسی جماعت کی ریلی کے باعث بھی پولیس نے سڑکیں بند کر رکھی ہیں ۔ جس کی وجہ سے گرو مندر ، گولیمار ، تین ہٹی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید ٹریفک جام ہے جبکہ پولیس نے ایمپریس مارکیٹ سے مزار قائد تک سڑک  کو دونوں اطراف سے ٹریفک کے لیے بند کر رکھا ہے ۔

 

کراچی سرکلر ریلوے پروجیکٹ کے ٹرانزیکشن سٹرکچر کی منظوری