رئیل اسٹیٹ سیکٹرپرنئی پابندیاں عائد کردی گئی

رئیل اسٹیٹ سیکٹرپرنئی پابندیاں عائد کردی گئی

 اسلام آباد(نیا ٹائم) فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط پرعمل کرنے کے لیے رئیل اسٹیٹ سیکٹرپر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔

 

ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ پابندیاں پراپرٹی ڈیلرزاور رئیل اسٹیٹ ایجنٹس پر لگائی گئی ہیں، جس کے تحت نامزد غیر مالیاتی کاروباریوں اور پیشہ ور مجرموں کے کاروبار پر پابندی ہوگی۔ نہ صرف یہ بلکہ مجرموں سے متعلق کسی کے ساتھ کاروبار کرنے پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔

 

بیان میں کہا گیا ہے کہ "انسداد منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی کی مالی معاونت کے قوانین کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔ این ڈی ایف بی پیز کو سزا یافتہ افراد کے فائدہ مند مالکان کے ساتھ تجارت نہ کی جائے۔ سزا یافتہ افراد کو سینئر عہدہ نہیں دیا جائے گا، DNFBPs کو ملکیت میں تبدیلی کے بارے میں مطلع کیا جانا چاہئے، بینی فیشل اونر کو مالک یا سینئر عہدوں میں تبدیلی کے بارے میں ایف بی آر کو آگاہ کرنا ہوگا۔

 

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ بلاجواز ہے، ایف اے ٹی ایف میں ایک طبقہ اس کی ساکھ کو متاثر کررہا ہے، پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔ چند روز قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے برسلز میں پاکستانی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کے ساتھ مکمل تعاون کیا، 2018 میں دیئے گئے ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کیا، ایف اے ٹی ایف میں ایک چھوٹا سا طبقہ ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ یورپی یونین اور دیگر ممالک کو اس سلسلے میں کردارادا کرنا چاہیے۔

 

23 مارچ اپوزیشن کی سیاسی شکست کا دن ہو گا