کراچی سرکلر ریلوے پروجیکٹ کے ٹرانزیکشن سٹرکچر کی منظوری

کراچی سرکلر ریلوے پروجیکٹ کے ٹرانزیکشن سٹرکچر کی منظوری

 کراچی(نیا ٹائم)پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی بورڈ نے کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کے ٹرانزیکشن اسٹرکچر کی منظوری دے دی۔

 

43 کلومیٹر کا ڈوئل ٹریک 3 سال میں تعمیر کیا جائے گا، روزانہ چار لاکھ مسافروں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ ملک کے سب سے بڑے اور مہنگے ماس ٹرانزٹ منصوبے کے آغاز میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

 

میڈیا رپورٹس کے مطابق منگل کو وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کی زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن ڈاکٹر محمد جہانزیب خان، وائس چیئرمین پی تھری اے بورڈ، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری پلاننگ، ممبران پرائیویٹ سیکٹر نے شرکت کی۔ میٹنگ میں سیکرٹری ریلوے ممبر  پرائیویٹ سیکٹر ڈویلپمنٹ، اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

 

ورڈ نے اہم اعدادوشمار اور کراچی سرکلر ریلوے پروجیکٹ سے متعلق پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھانے اور منصوبے کی کامیابی کے امکانات بڑھانے کے لیے نجی شعبے کو کم از کم ریونیو گارنٹی دی جائے گی۔ کرائے اور دیگر ذرائع سے انکم کیلئے سرکلر ریل اسٹیشنوں پر کمرشل معاملات سر انجام دینے کا حق بھی دیا جائے گا۔

 

منصوبے کے مطابق 43 کلومیٹر طویل ڈوئل ٹریک اربن ریل ماس ٹرانزٹ سسٹم کی تعمیر تین سالوں میں مکمل کی جائے گی۔ منصوبے میں الیکٹرک ٹرینوں کا استعمال کیا جائے گا جو ہفتے میں 7 دن اور دن میں 17 گھنٹے چلیں گے، شہر کے گنجان آباد علاقوں میں 30 اسٹیشن بنائے جائیں گے۔

 

اس منصوبے کا مقصد کراچی کے میٹروپولیٹن شہر کو قابل اعتماد، محفوظ اور ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ فراہم کرنا ہے۔ اس منصوبے کے حوالے سے کچھ عرصہ قبل وزارت ریلوے کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ کل تین مرحلوں پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں 43 کلومیٹر طویل ٹریک بنایا جائے گا، جس میں تقریباً 15 کلومیٹر کا ٹریک گراؤنڈ ہوگا، جب کہ 28 کلومیٹر سے زائد ٹریک کو ایلیویٹ کیا جائے گا۔

 

پاکستان میں غربت میں کمی آئی ہے ، وزیراعظم