نیب کو خورشید شاہ کے کیس میں بھی ناکامی کا سامنا

نیب کو خورشید شاہ کے کیس میں بھی ناکامی کا سامنا

اسلام آباد ( نیا ٹائم ) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کی ضمانت کے کیس میں بھی نیب کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔ سپریم کورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا ۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کئے گئے فیصلے میں کہا گیا کہ قومی احتساب بیورو نے محض بے نامی داروں کا الزام لگا کر خورشید شاہ کے اثاثوں کی سیل ڈیڈ مالیت مسترد کرنے کی درخواست کی تاہم نیب کوئی بھی ٹھوس قانونی جواز پیش کرنے میں ناکام رہا ۔

سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے پیپلز پارٹی رہنما کی ضمانت کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں لکھا گیا ، خورشید شاہ اور ان کے اہلخانہ کے اثاثوں سے متعلق نیب اپنے ریفرنس میں ٹھوس شواہد اور مواد پیش نہیں کر سکا ۔ رہنما پیپلز پارٹی کے بے نامی داروں کی جائیداد میں ملوث ہونے کے بھی نیب کے پاس شواہد موجود نہیں ہیں ۔

فیصلے میں لکھا گیا نیب کی جانب سے محض بے نامی داروں کا الزام لگا کر رہنما پیپلز پارٹی کے اثاثوں کی سیل ڈیڈ مسترد کرنے کی درخواست کی گئی تاہم نیب اپنے دعوے میں کوئی بھی ٹھوس قانونی جواز پیش کرنے میں ناکام رہا ۔ نیب نے خورشید شاہ کی زرعی آمدن کا بھی تخمینہ قانون کے مطابق نہیں لگایا ۔

فیصلے میں لکھا گیا بینک ٹرانزیکشنز سے متعلق بھی الزامات لگائے گے تاہم ان الزامات کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کوئی بھی گراؤنڈ موجود نہیں ، جبکہ نیب خورشید شاہ کی گرفتاری کے 2 سال بعد بھی فائنل ریفرنس دائر کرنے میں ناکام رہا ۔ جس کے بعد ان کو مزید حراست میں رکھنا قانون اور بنیادی حقوق کے بھی منافی ہے ۔ عدالت نے فیصلے میں لکھا ملزم کو ایک کروڑ روپے کے مچلکوں کے بدلے ضمانت منظور کی جاتی ہے ۔

 

سپریم کورٹ نے ایف بی آر پر جرمانہ عائد کردیا