میاں نوازشریف کی واپسی کے لیے حکومت نے خط لکھ دیا

میاں نوازشریف کی واپسی کے لیے حکومت نے خط لکھ دیا

 اسلام آباد(نیا ٹائم)اٹارنی جنرل آفس نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو سابق وزیراعظم نوازشریف کی وطن واپسی کے بیان حلفی پرعملدرآمد کرنے کیلئے خط لکھ دیا۔

 

 میڈیا رپورٹس کے مطابق اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے لکھے گئے خط میں لاہور ہائی کورٹ میں دی گئی ضمانت کا حوالہ دیا گیا اورشہبازشریف پرزور دیا گیا کہ وہ لاہورہائی کورٹ میں دیے گئے حلف نامے پرعمل درآمد کریں۔ بتایا گیا ہے کہ شہباز شریف کو بیان حلفی پرعمل درآمد کے لیے مخصوص وقت دیا گیا ہے اورعدم تعمیل کی صورت میں انہیں توہین عدالت کی کارروائی سے خبردارکیا گیا ہے۔

 

 خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے شہبازشریف کی آرٹیکل 63 کے تحت نااہلی کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف شہباز شریف کی ذاتی ضمانت پرملک سے باہر گئے۔ شہباز شریف کو نااہل قراردیا جائے۔

 

انہوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کی میڈیا بریفنگ میں کہا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ جعلی حلف نامہ جمع کرانے پر شہباز شریف کی نااہلی کے لیے درخواست دائر کی جائے گی۔ کورٹ سے اپیل کی جائے گی کہ شہباز شریف اپنے بھائی کو واپس لے کرآئیں یا آرٹیکل 63 کے تحت ان کو نااہل کردیا جائے اور قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

 

 نواز شریف شہباز شریف کی ذاتی ضمانت پر ملک سے باہر گئے۔ شہباز شریف کی صحت کا ڈرامہ درست نہیں تھا۔ نواز شریف 17 ماہ سے لندن میں ہیں اور وہاں کوئی علاج نہیں چل رہا، نواز شریف باہر بیٹھ کر ملک اور قانون کا مذاق اڑارہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں کووِڈ کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی، اگرچہ پاکستان میں کورونا کیسز بڑھ رہے ہیں، تاہم حکومت نے اس بار پاکستان کو لاک ڈاؤن نہ کرنے، اسکولوں یا تعلیمی اداروں کو بالکل بند نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 

 ہماری معیشت لاک ڈاؤن کی متحمل نہیں ہو سکتی، دو ارب ڈالر مالیت کے لوگوں کو مفت کے ٹیکے لگائے گئے ہیں، اس لیے اب لاک ڈاؤن نہیں لگایا جائے گا، کورونا کی صورتحال پر نظر رکھی جائے گی لیکن بازار، کاروبار، سکول، ہسپتالوں میں ماسک پہننا چاہیے۔

 

عمران خان کا مستقبل اب سڑکوں پرہے،عظمیٰ بخاری