کسان دربدر جبکہ حکومت منظرنامے سے غائب ہے

کسان دربدر جبکہ حکومت منظرنامے سے غائب ہے

لاہور(نیا ٹائم)پاکستان  مسلم لیگ ن کے صدر  شہباز شریف   کا کہنا ہے  کہ آج کا کسان دربدر جبکہ حکومت ہمیشہ کی طرح منظر نامے سے غائب ہے۔

 

صدر پاکستان مسلم لیگ ن اور قائدحزب اختلاف قومی اسمبلی شہباز شریف کا ملک بھر میں جاری  یوریا کھاد کی قلت پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہنا  تھاکہ ملک میں  کھاد کی سمگلنگ اور بلیک میں فروخت  کا سلسلہ جاری ہے  مگرکسان دربدر اور حکومت ہمیشہ کی طرح  منظر نامے سے غائب ہے۔حکومت ڈی اے پی اور یوریا کی سمگلنگ کو روکے۔ شہباز شریف نے کہا کہ کسانوں کا معاشی استحصال بند کیا جائے۔حکومتی نااہلی، نالائقی اور چور بازاری کی سزا عوام اور کسانوں کو مل رہی ہے جبکہ کسان چیخ رہے ہیں کہ  کھادسمگل ہو رہی ہے مگرپتہ نہیں  حکومت کہاں سوئی ہوئی ہے۔

 

اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف  کا مزید کہنا تھا  کہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں یوریا کی قیمت زیادہ ہے تو سمگلنگ کی روک تھام کیوں نہ کی گئی۔یوریا کی سمگلنگ روکنے کیلئے پیشگی بروقت  انتظامات کیوں نہ کیے گئے۔یوریا کی قلت پاکستان تحریک انصاف حکومت کی بدانتظامی اور کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔صدر مسلم لیگ ن نے کہا کہ یوریا نہ ہونے کا مطلب ملکی زرعی پیداوار میں کمی ہے۔ایک زرعی ملک جو گندم اور چینی باہر بھجواتا تھا وہ آج خود بیرون ملک سے یہ سب درآمد کر رہا ہے   جبکہ ہمارے دورحکومت میں ڈی اے پی کی بوری چوبیس سو روپےکی تھی مگر آج دس ہزار روپے میں بھی نہیں مل رہی۔

 

قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کا قیمتوں پرقابو کا نہ  ہونا ناکامی، نااہلی اور بدانتظامی کی انتہا ہے جب کہ حکومت کے کپاس کی پیداوار بارے  اعدادوشمار بھی  غلط بیانی کے سوا کچھ نہیں ہیں ۔شہباز شریف نے کہ  سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 2015 میں تاریخی کسان پیکیج دیا تھا  جبکہ کسانوں کو سیلاب سے ہونے والے نقصانات میں اربوں روپے  کی امداد بھی  دی گئی تھی۔ یہ پروگرام سیالکوٹ اور لودھراں میں پی ڈی ایم اے کے تعاون سے شروع ہوا تھا اورون ونڈو آپریشن  کے ذریعےہر مرکز سے دو سو کسانوں کو روزانہ کی بنیاد پر امداد فراہم کی گئی  مگرآج کسانوں سمیت عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔

 

 

 

کھاد نہ ملنے کی وجہ سے گندم کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ