اسلام آباد ہائیکورٹ نے پورنو گرافی کی سزا بڑھانے کا حکم دیدیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پورنو گرافی کی سزا بڑھانے کا حکم دیدیا

اسلام آباد ( نیا ٹائم ) چائلڈ پورنو گرافی کے جرائم کی سزا 7 سال سے بڑھا کر 20 سال کرنے کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو ہدایت جاری کر دی ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے چائلڈ پورنو گرافی کے مجرم شہزاد خالق کی سزا کے خلاف اپیل کو مسترد کرتے ہوئے 24 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا ۔ عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ چائلڈ پورنو گرافی کے حوالے سے بین الاقوامی معیار کے مطابق عملدرآمد کرنے کیلئے گائیڈ لائنز جاری کی گئی ہیں ۔

عدالت نے قرار دیا کہ ویڈیو ثبوت کی فرانزک ایجنسی سے تصدیق کے بعد چائلڈ پورنو گرافی اور جنسی جرائم کے متاثرین کی عدالت میں پیشی کی ضرورت نہیں ۔ سزا کیلئے فرانزک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ کو حتمی تصور کیا جائے ۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ ٹرائل کورٹس چائلڈ پورنو گرافی کے کیسز کا ان کیمرا ٹرائل یقینی بنائیں ، متاثرہ بچوں کو عدالتوں میں ملزم کے ساتھ پیش کرنے کے بجائے ویڈیو لنک کے ذریعے ان کا بیان ریکارڈ کیا جائے ۔

عدالت نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ پیکا ایکٹ میں ترمیم کر کے چائلڈ پورنو گرافی کے ملزموں کی سزا 14 سال سے بڑھا کر 20 سال کریں ۔

عدالت نے مجرم شہزاد خالق کی اپیل مسترد کر کے چائلڈ پورنو گرافی کے جرم میں اسے 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ جبکہ نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے کے جرم میں 5 سال قید اور اسلحہ کے زور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے پر 2 سال قید کی سزا برقرار رکھی ۔

 

مانتاہوں عدالتی کیسز کے فیصلے تاخیر سے ہوتے ہیں