مانتاہوں عدالتی کیسز کے فیصلے تاخیر سے ہوتے ہیں

مانتاہوں عدالتی کیسز کے فیصلے تاخیر سے ہوتے ہیں

لاہور(نیا ٹائم)سپریم کورٹ آف پاکستان  کے جج جسٹس قاضی فائزعیسیٰ  کا کہنا ہے کہ  ہر جج کے اندر اللہ کا اور آئين کا ڈرلازمی ہونا چاہيے جبکہ  یہ بھی مانتا ہوں کہ ہمارے ملک میں عدالتی کیسز کے فیصلے تاخیر سے ہوتے ہیں  ۔

 

لاہورمیں سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ہائی کورٹ بار میں منقعدہ تقریب سے خطاب کیا جبکہ  تقریب کا عنوان آئین اور قانون کی حکمرانی تھا ۔تقریب سے خطاب  کرتے ہوئے  جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا  کہ مجھے کہا گیا کہ میں بہادر ہوں اور آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرتا ہوں۔انھوں نےکہا کہ میں مستقبل نہیں بلکہ آپ سب یہاں موجود پاکستان کا مستقبل ہیں۔سپریم کورٹ کے جسٹس کا کہنا تھا کہ مجھےقانون کے شعبے سے  منسلک ہوئےمجموعی طور پرچوالیس سال ہوچکے ہیں اوراس تجربے سے جو کچھ سیکھا ہے وہ سب آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔

 

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں جو قوانین بنائے جاتے ہیں وہ انگریزی زبان میں ہیں۔جسٹس قاضی عیسی کا کہنا تھا کہ ایوان میں جب بھی  کوئی بل پاس ہوتا ہے تو اس کو انگریزی کیساتھ ساتھ  اردو میں بھی شائع کروانا چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بہادرجج وہ ہوگاجو فيصلہ حق ميں دے۔ ميں نے جو سيکھا اور ہوتے ديکھا اور جو نتائج اخذ کيے وہ ہی سامنے رکھتاہوں۔سپریم کورٹ کے جسٹس نے تسلیم کیا کہ ہمارے ملک میں کیسز کے فيصلے بہت تاخیر سے ہوتے ہيں اور نہيں پتہ ہوتا کہ فيصلے کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

 

اس سےپہلےلاہور ہائی کورٹ بار کے صدر محمد مقصود بٹر کاتقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جسٹس  قاضی  عیسیٰ نے ان طاقتوں کا سامنا کیا ہے  جنہوں نے اس ملک کواپنے پنجے میں جکڑا ہوا ہے اوروہ لوگ عدالتی  نظام کو بھی آگے چلنے نہیں دینا چاہتے صدر لاہور ہائی کورٹ بار کامزید  کہنا تھا کہ کچھ طاقتیں پاکستان کو آگے بڑھتے دیکھنا نہیں چاہتی ہیں۔ عدالتوں میں کئی مقدمات سماعت کیلئےمقرر نہیں ہوتے اور کچھ مقدمات کوتو فوری سماعت کیلئے مقرر کر لیا جاتا ہے جبکہ ایسے کئی کیسوں کی ماضی میں مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ 

 

 

 

سابق چیف جج رانا شمیم پرعائد چارج شیٹ جاری