شناختی کارڈ میں لگی چِپ کی مدد سے لاپتہ کی تلاش

شناختی کارڈ میں لگی چِپ کی مدد سے لاپتہ کی تلاش

کراچی (نیا ٹائم) سندھ ہائی کورٹ میں شہری اعجاز الحسن کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی جس پرعدالت نے لاپتہ شہری کو شناختی کارڈ کی چپ کی مدد سے تلاش کرنے کا حکم دے دیا۔

 

تفصیلات کےمطابق عدالت نےلاپتہ شہری اورتفتیش کا معاملہ ٹاسک فورس کے سامنے لانے کی بھی ہدایت کی۔سندھ ہائی کورٹ میں شہری اعجازالحسن کی بازیابی سے متعلق دائر کردہ درخواست کی سماعت کی گئی ۔ عدالت عالیہ کا کہنا تھا کہ گمشدہ شہری اور تحقیقات کا معاملہ ٹاسک فورس کے سامنے بھی زیر بحث لایا جائے اور جس جس فون پر اس کارابطہ ہوا تھا ان سے بھی انکوائری کی جائے۔ جسٹس اقبال کلہوڑو نے استفسار کیا کہ کیا سمارٹ کارڈ میں موجود چپ کا پتہ نہیں چل سکا؟ لاپتہ شہری کی بازیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی ۔

 

عدالت کی جانب سے 17 فروری کو پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔ اس موقع پر تفتیشی افسر نے عدالت کو واضح کیا کہ لاپتہ شخص سابق گورنر حکیم محمد سعید قتل کیس میں گرفتار ہوچکا ہے۔ اعجاز الحسن اپنی رہائی کے بعد ہانگ کانگ چلا گیا تھااور دس سال بعد واپس آیا تھا لیکن واپسی پرائیرپورٹ سے پھر لاپتا ہو گیا تھا ۔

 

تفتیشی افسر نے مزید کہا کہ ان سے پاک سر زمین پارٹی (پی ایس پی) میں شمولیت کے لیے بھی رابطہ کیا گیا تھا۔اس پرکورٹ نے استفسار کیا کہ جن لوگوں نے رابطہ کیا تھا کیا ان سے پوچھ گچھ کی؟بعد ازاں عدالت نے لاپتہ افراد کیس کی پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 17 فروری تک ملتوی کردی۔

 

جسٹس عائشہ ملک کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری