ٹویوٹا کی نئی لینڈ کروزر لینی ہے تو چار سال انتظار کرناہوگا

ٹویوٹا کی نئی لینڈ کروزر لینی ہے تو چار سال انتظار کرناہوگا

جاپان(نیاٹائم ویب ڈیسک)گاڑیوں کی معروف کمپنی ٹویوٹا نے جاپان میں اپنے صارفین کو بتایا ہے کہ انہیں نئی لینڈ کروز ایس یو وی خریدنے کے بعد ڈیلیوری کیلئے چار برس تک کا انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

دنیا میں گاڑیاں مینوفیکچرکرنےوالی سب سے بڑی کمپنی  ٹویوٹا کا بتانا ہے کہ اس لمبی دیری کا تعلق عالمی لیول پر سیمی کنڈکٹر چِپس کی کمی یا سپلائی چین (سامان کی ترسیل) کے بحران سے نہیں ہے۔مگر کمپنی نے گاڑیوں کی ڈیلیوری میں اس دیری کی وجوہات پر بات کرنے سے انکار کیا ہے۔

 

یاد رہے کہ پچھلےسال پوری دنیا کے متعدد ممالک بشمول پاکستان میں نئی گاڑیوں کے خریداروں کو ڈیلیوری میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں کئی یوزرز نے عالمی وبا کے دوران چپس کی کمی یا سپلائی کے ایشو کی وجہ سے اپنی نئی کار کیلئے مہینوں ویٹ کیا ہے۔

  

اسکے علاوہ  ٹیوٹا کا کہنا ہے کہ جاپان میں اس کے 11 پلانٹس پر  مینوفکچرنگ کی سپیڈکم کی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ ٹیوٹا کے ملازمین اور پرزے ترسیل  کرنے والی کمپنیوں میں کورونا کے متاثرین میں اضافہ ہے۔

 

ایک بیان میں ٹویوٹا کمپنی کا کہنا ہے کہ لینڈ کروزر نہ صرف جاپان بلکہ پوری دنیا میں ایک مقبول وہیکل سمجھی جاتی ہے۔ ہم معذرت خواہ  ہیں کہ پروڈکٹ کی ڈیلیوری میں طویل عرصہ  متوقع ہے۔اگر آپ ابھی اسے بُک  کرتے ہیں تو اس میں چار برس تک کا امکان موجود ہے۔ ہم ڈیلیوری کے ٹائم  کو کم کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے اور ہم خوش  ہیں کہ آپ اسے سمجھ پائیں گے۔

 

کمپنی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ "یہ تاخیر موجودہ سیمی کنڈکٹر (چِپس) کی قلت یا سپلائی چین کے ایشو سے منسلک نہیں ہے۔

 

برطانوی میڈیاکےمطابق لینڈ کروزر کے نئے ماڈل کی طلب میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔ ٹیوٹا نے درمیانی اور طویل عرصے میں اس کی تعداد بڑھانے پر بھی غور کیا ہے۔ٹیوٹا نے 1951 میں لینڈ کروزر متعارف کرائی تھی اور یہ کمپنی کی سب سے زیادہ دیر چلنے والی گاڑی ہے۔

 

ودہولڈنگ ٹیکس کے بعد ڈالر 200 روپے سے اوپر جانے کا خدشہ

ٹویوٹا کی نئی لینڈ کروزر لینی ہے تو چار سال انتظار کرناہوگا