خدا کی تلاش میں

خدا کی تلاش میں

ہم نےاس ناخوشگوار واقعے کے بارے میں بہت سے مضامین پڑھے، کافی تحقیقات کیں اور بہت سی ویڈیوز  اورخبریں دیکھیں۔ کئی برسوں کے خوف اور ہچکچاہٹ کے بعد، آج میں اپنی زندگی کے اس سب سے بڑے صدمے کو شیئر کرنے جا رہی ہوں جس کا سامنا  مجھے کرنا پڑا۔

 

پہلے اپنے شوہر کو قائل کرنے اور پھر تمام متعلقہ قانونی تقاضے پورے کرنے کی طویل جدوجہد کے بعد، آج صبح سویرے ہم نے خود کو مکہ مکرمہ کے لیے بس کا انتظار کرتے ہوئے پایا۔ آخرِ کار ایک طویل انتظار کے بعد ہم تینوں یعنی میں، میرے شوہر محبتی ، اور ایک فرشتہ (کسی بھائی سے بڑھ کے قریبی ہمارا  ایک خاندانی دوست) بس میں سوار ہوئے۔ عام طور پر حرم جانے میں یہی کوئی پینتالیس منٹ لگتے ہیں مگر اس مرتبہ پانچ گھنٹے سے بھی زیادہ وقت لگا۔ سارا سفر مقدس مناجات کا ورد کرتے طےہوا۔

 

لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَشَرِيْكَ لَكَ

 

ہم بہت ہی پرجوش، جذبے اور امید سے بھرے ہوئے تھے. اسی عالم میں ہم منیٰ جا پہنچے جہاں ہم نے ظہر کی نماز ادا کی۔ دن بہت اچھا گزرا، گو کہ منیٰ پہنچنے پر مردوں اور عورتوں کو الگ الگ رکھا گیا تھا۔

 

اگلا دن طلوع ہوا تو ہم پھر سے بس میں سوار ہوئے اور چل پڑے، اس بار عرفات کے بابرکت مقام کی جانب۔ وہ دن بھی عجیب آسمانی حسن اور روحانیت کا حامل تھا، جیسے اس دنیا سے باہر کا سماں ہو. شام کو، بالکل جیسے موقع کی مناسبت سے، واپسی کی بسیں ایک بار پھر کافی لیٹ تھیں۔ لہذا ہمیں باہمی میل ملاقات میں اب تک کے تجربات بانٹنے اور ہنسی مذاق کے ساتھ ساتھ کچھ گہری جذباتی باتیں کرنے کا موقع بھی میسر آیا. میں نے اپنے شوہر کے پہلو میں دفن ہونے کی خواہش ظاہر کی جس پر دونوں کو چپ سی لگ گئی اور ہم زمین کو تکنے لگے۔

 

ہم نے فیصلہ کیا کہ مزید انتظار بڑی سڑک کی طرف چل کر کیا جائے۔ ہمیں حیرت سی حیرت ہوئی کہ وہاں کوئی باقاعدہ سڑک تو  تھی نہیں، الٹا ہر طرف کچرا، گند مند بکھرا پڑا تھا۔ پھر ہم نے ہارن کی تند آوازیں سنیں، بسیں گویا اُڑتی ہوئی ہماری طرف بڑھ رہی تھیں۔ ڈھونڈ ڈھانڈ کر ہم اپنی اپنی بسوں پر سوار ہو گئے۔

 

مزدلفہ پہنچے تو بہت سے لوگ ساری رات سو نہیں پائے، خود مجھے آدھی رات کے قریب نیند نےآلیا۔ اس کا سبب ایک طویل دن کی تھکن تھی اور ایک بڑے دن کی آمد آمد بھی۔ میں حج کے وہ سب مقدس ارکان بجا لانے کے لیے بہت پرجوش تھی جن کے خواب ہمیشہ سے میری آنکھوں پر نقش تھے اور جن کے مناظر میں بچپن سے ٹی وی پر دیکھتی آئی تھی۔ جیسے، شیطان کی تین  پر کنکر پھینکنا، طواف کرنا اور واپس آنا۔ لیکن خدا کے منصوبے بعض اوقات مختلف ہوتے ہیں، بہت ہی مختلف!

 

اگلی صبح جب میں بیدار ہوئی تو فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد میں نے اپنے شوہر کو فون کر کے جاننا چاہا کہ ہم کب روانہ ہونے والے ہیں، جبکہ بیشتر خواتین پہلے ہی جا چکی تھیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ دوست بتا رہا ہے کہ ابھی بہت رش ہے اور ہم اس وقت جائیں گے جب پہلے سے گئے ہوئے زائرین میں سے اکثر واپس آجائیں گے اور بھیڑ کم ہو جائے گی۔ یہ جان کر مجھے وقتی اطمینان ہوا۔

 

 اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے بہت مضبوط وجدان سے نوازا ہے، جو ہمیشہ درست ہوتا ہے۔ چاہے میں انہیں بعض اوقات تھوڑی دیر سے سمجھ پاتی ہوں۔ افسوس، اس دن بالکل یہی ہوا! میں بہت پریشان تھی، اندر سے جیسے کوئی چیز مجھے چبھ رہی تھی، میرا دل ڈوبا جا رہا تھا۔ کیا؟ کیسے؟ کیوں؟ یہ سب تو البتہ میں نہیں جان سکتی تھی. اور شاید اسی لیے میں نے اپنے خدشات کو سمجھنے کی کوشش کرنے کے بجائے ان سے فرار کی ٹھان لی۔ میں نے شوہر کو کال کی اور ان پر زور دیا کہ ہمیں فوری طور پر روانہ ہو جانا چاہئیے. چنانچہ ہم چل پڑے۔

 

راستے میں، میرے شوہر نے میرا شانہ تھپتھپا کر مجھے ایک سو سالہ بوڑھا آدمی دکھایا جو اس انتہائی گرم اور دھوپ بھرے دن میں اللہ کے مقدس راستے پر آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ ہمدردی کے مارے میں نے اسے ٹھنڈا پانی پیش کیا جو اس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا. پھر میں نے اس کے تپتے ہوئے سر پر تھوڑا سا پانی ڈالا، جس پر میرے شوہر نے مجھے تنبیہ کی کہ ہمارے پاس صرف دو عدد چھوٹی بوتلیں ہیں۔ میں مسکرا کے رک گئی جیسے میرے اندر کی کوئی چیز اسے بتانا چاہتی ہو کہ یہ پانی ضائع تھوڑی جا رہا ہے، یہ تو گویا بہت بڑی سرمایہ کاری ہے۔ میں نے بڑے میاں کے سر پر سایہ کرنے کی کوشش کی تاکہ ان کی کچھ حفاظت ہو سکے۔

 

اچانک ہماری رفتار سست پڑتے پڑتے ساکن ہونے لگی۔ ہمیں اندازہ سا ہوا کہ انتظامیہ کے حکم پر  دور کہیں کچھ دروازے بند کیے جا رہے ہیں. کیا ہو رہا ہے، یہ کوئی جانتا تھا نہ کوئی سمجھ ہی پا رہا تھا۔ بلا کی گرمی، مرطوب فضا، بے حساب ہجوم، شدید گھٹن،اور اس سب کے بیچ سے ہم دروازے کھلنے کا انتظار کر رہے تھے۔ اچانک ہمارے پیچھے آنے والے لوگوں نے ہمیں آگے دھکیلنا شروع کردیا اور پھر ان کے مزید پیچھے آنے والے لوگ انہیں آگے دھکیلنے لگے۔ یہ اس مہلک ترین بھگدڑ کا آغاز تھا۔

 

میرے شوہر اور بھائی چیختے چلاتے ہوئے اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔ ایک لمحے کے لیے میں نے اپنی بائیں جانب دیکھا تو مجھے ایسے لگا جیسے ارد گرد جیتے جاگتے لوگ نہیں زُومبی (بدروحیں) ہوں۔ وہ واقعی کسی زُومبی کی طرح حرکت کر رہے تھے. اگر آپ کو اپنے سامنے دیوار  نظر آئے تو کیا آپ اس سے ٹکرانے چل پڑیں گے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ لیکن وہ سب یہی کر رہے تھے۔ سیدھے اُس انسانی دیوار میں گھُسے چلے جا رہے تھے جو ہم اور ہمارے آگے والے ہزاروں لوگوں پر مشتمل تھی۔

 

خوش قسمتی سے ہمارا بھائیوں جیسا دوست سیڑھیاں چڑھ کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوگیا۔ اور بدقسمتی سے میرے شوہر اپنی جگہ جامد کھڑے ہوئے پھنس کے رہ گئے۔ پیچھے بچا کون؟ افسوس، میں! اس وقت دنیا کی سب سے بدقسمت عورت!

 

 میں کیمپ کو جاتی ہوئی سیڑھی کے چوتھے زینے پر تھی جب ایک افریقی خاتون نے مجھے اس زور سے دھکا دیا کہ میری ایک ٹانگ چوتھی سیڑھی پر تو دوسری پہلی سیڑھی پر! میں بائیں پہلو پر بری طرح گری اور میرا سر دھاتی دروازے سے جا ٹکرایا۔ یہی نہیں، تقریباً سات افریقی میرے جسم پر بیٹھے یا کھڑے ہوئے تھے، ان میں سے ایک مسلسل میرا بایاں پاؤں کچل رہا تھا۔ جب وہ اپنے لیے راستہ بنانے اور بچ نکلنے کی کوشش کر رہے تھے تو میرا سر، جو ان کی مسلسل ٹھوکروں کی زد میں تھا، آہنی دروازے سے بارہا ٹکرایا جاتا رہا۔ مانا کہ وہ ایسا جان بوجھ کر نہیں کر رہے ہوں گے۔

 

 زندگی میں میرا پالا متعدد آپریشنوں، حادثوں اور دردوں سے پڑ چکا تھا لیکن یہ اذیت ایسی تھی جس کا مجھے دور دور تک کوئی تجربہ نہیں تھا۔ اوہ خدایا! میرے شوہر کہاں ہیں؟ یہ لوگ میرے اوپر سے کیوں نہیں ہٹ رہے ہیں؟ میرا بایاں بازو کیا ہوا؟ یہ عورتیں میرے پیٹ پر کیوں کھڑی ہیں؟ میری ٹانگ کیوں پھٹ رہی ہے؟  تم مجھے اتنی اذیت کیوں دے رہے ہو،اجنبی لوگو! ذہن میں سوالات ہی سوالات تھے جن کا کوئی جواب نہ ملتا تھا۔

 

لیکن پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے مجھے امید کی کرن دکھلائی۔ اچانک میری دائیں جانب کسی گلاس کے پیندے جتنا شگاف نمودار ہوا اور کچھ روشنی نظر آئی۔ ساتھ ہی مجھ پر ایک اور رحمت کا نزول ہوا، میرا وہ بھائی اسی شگاف کے پار نمودار ہوا اور اس نے مجھے دیکھ لیا اور پکارا کہ بھابھی، آپ زندہ ہیں! میں نے اس سے اپنے شوہر کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ ٹھیک ہیں لیکن ٹانگوں کے بل جکڑے ہوئے ہیں، ہل نہیں سکتے۔ پھر میں نے اسے اپنا نام پکارتے ہوئے سنا کہ پلیز، ہمت کریں، آپ ایسا کر سکتی ہیں! میں نے پوری کوشش کی لیکن انگلی تک نہ ہلا سکی۔ یکدم مجھے ایک ہاتھ دکھائی دیا جسے اس عالم میں اپنے شوہر کا ہاتھ سمجھ کر میں نے چوم لیا، گویا اپنے خیال میں الوداعی بوسہ دیا۔ پھر مجھے اندازہ ہوا کہ یہ ان کا ہاتھ نہیں تھا تو میں نے اسے پرے سرکا دیا، یہی کوئی پانچ سینٹی میٹر دور، کہ زیادہ سے زیادہ اتنا ہی ممکن تھا۔

 

 میں چیخ رہی تھی کہ ایئر ایمبولینس کو کال کریں، پولیس کو کال کریں۔ میرے بھائی نے جواب دیا کہ یہ کوئی برطانیہ نہیں ہے، یہاں تو چیزوں میں وقت لگے گا۔ پھر وہ مایوس ہو کے کہنے لگا، بھابی آپ  کلمہ پڑھ لیں۔ اس نے اسی شگاف سے ٹھنڈا پانی میرے منہ میں انڈیلا۔ شاید یہ سوچ کر کہ میں اب کسی بھی وقت مرنے ہی والی ہوں۔ پھر میں نے اپنے شوہر کو اپنی زندگی اور سلامتی کے لیے روتے سنا۔ جب انہوں نے مجھے خدا سے مدد طلب کرنے کو کہا تو میں نے ایسا ہی کیا۔ میں نے اللہ سے دعا کی کہ وہ مجھے زندگی دے اور ان کے ساتھ اولاد عطا کرے۔ حتی کہ خود میرے جسم پر بیٹھے اور کھڑے ہوئے لوگوں نے مجھے عربی میں نصیحت کی کہ لا إله إلا الله پڑھو لیکن میں نے سوچا، کیوں؟

 

مجھے پتا تھا کہ میں ایک انتہائی خوفناک صورتحال سے دو چار ہوں لیکن مجھے کوئی روشنی، کوئی فرشتہ، ایسا کچھ بھی تو نظر نہیں آرہا تھا۔ میں نے اللہ سبحانہ وتعالی سے دل ہی دل میں بات کی، اور میں نے و دعا مانگی جو میری والدہ مشکل وقت میں پڑھاتی تھیں. مجھے پورا یقین ہے اسی سبب سے ہم بچ بھی نکلے۔

 

آخرِ کار ساڑھے چار گھنٹے کی ابتلا کے بعد ہماری دعائیں قبول ہوئیں. جب میں نے سنا کہ ہمیں بچایا جا رہا ہے تو یوں لگا جیسے مجھ پر سے ٹنوں وزنی بوجھ ہٹ گیا ہو۔ اگرچہ اس وقت میں ہوش و حواس سے بیگانہ ہو رہی تھی، تب میری نظر ٹھنڈے پانی کے ڈسپوزیبل گلاس پر پڑی جو بھائی نے کسی ضرورت مند کے لیے گیٹ پر رکھا تھا، اسی گلاس سے پانی لے کر میں نے اپنے سر پر ڈالا جس سے مجھے کچھ ہوش آیا۔

 

سب سے بڑی تسلی تب ملی جب اس دیو ہیکل خاتون کو ساڑھے چار گھنٹے بعد میرے پیٹ پر سے اتارا گیا اور میں کھل کر سانس لے پائی۔ اس کے باوجود میری ٹانگیں سات عظیم الجثہ افریقی مردوں اور عورتوں کے نیچے پھنسی ہوئی تھیں۔ پھر بھی مجھے یقین ہو چلا تھا کہ ہم بچ تو گئے اب جلد ہی اپنی منزل کو بھی جا لیں گے۔ تب اچانک میرے شوہر میرے شانے پر گر پڑے اور میرے کان میں سرگوشی کی کہ وہ بیہوش ہو رہے ہیں۔ ایک لمحے کے لیے تو مجھے یقین ہو گیا کہ انہیں دل کا دورہ پڑا ہے۔ میں گھبرا گئی، مجھے بالکل سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں۔ ایمرجنسی دوائیاں تو میرے بغلی تھیلے میں تھیں جبکہ میری ٹانگیں ابھی تک پھنسی ہوئی تھیں۔ اوہ خدایا! کرم فرما، ایسا کچھ نہ ہونے دے!

 

اسی وقت بھائی چند سدا کے انسان دوست اور مدد گار پاکستانی جوانمردوں کے ساتھ مجھے بچانےآپہنچے۔ لیکن میں نے صاف انکارکردیا اور درخواست کی کہ پہلے میرے شوہر کو بچایا جائے۔ انہیں فوری طبی امداد پہنچانے کے لیے میں نے مددگاروں سے التجا کی کہ وہ کسی طرح میری کمر تلے دبا تھیلا نکالیں۔ انہوں نے میری خواہش کا احترام کیا اور یوں خدا کے فضل سے میرے شوہر بچ گئے۔ جب مددگاروں نے مجھے ان لاشوں کے ڈھیر سےکھینچ کر باہرنکالا تو میں نہ تو اپنی ٹانگیں محسوس کر سکتی تھی اور نہ ہی اپنا بایاں بازو۔ ستم ظریفی کی بات یہ کہ جس ہاتھ کو میں نے چوما تھا وہ میرا اپنا ہاتھ نکلا جو اتنا مسخ اور مفلوج ہو چکا تھا کہ خود میں پہچان نہ پائی تھی۔

 

وہ مہربان مجھے ایک یخ بستہ کمرے میں لے گئے، میں نے اپنے شوہر کو بھی وہیں موجود پایا تو کسی نہ کسی طرح خود کو گھسیٹ کر ان کے پاس لے گئی۔ انہیں قے کرتے ہوئے سہی مگر زندہ پا کر مجھے زندگی کی سب سے بڑی خوشی نصیب ہوئی۔ میرے فخر کی کوئی انتہا نہیں تھی جب انہوں نے کہا، تم تو واقعی ایک مجاہد ہو، خاتون! پھر انہوں نے یاد کیا کہ میں نےکہا تھا کہ میں ان کے ساتھ دفن ہونا چاہوں گی، اس پر ہم دونوں ایک ساتھ مسکرائے اور رو دیے۔

 

انہیں ایمبولینس کے ذریعے اسپتال لےجایا گیا اور پھرلاشوں کے سمندر کے اوپر تیرتی ایک اور ایمبولینس میں میرے پاس منتقل کردیا گیا۔ یہ ایک اور نا قابلِ فراموش منظر تھا۔ لاشوں کا انبار جس میں سے کچھ لوگ مردہ نہیں بھی تھے بلکہ بے ہوش تھے۔ مجھے یہ تب پتا چلا جب میں نے ایک عورت کو مدد کے لیے پکارتے ہوئے سنا، میری مدد کرو، میں زندہ ہوں، میں مصری ہوں، وہ کہہ رپی تھی لیکن کسی نے بھی اس کی مدد کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ مجھے  آج تک پتا نہیں چلا کہ وہ زندہ بچ سکی یا دب کر مر گئی۔

 

کچھ لوگ صدمے کی وجہ سے دماغی توازن ہی کھو بیٹھے تھے اور برہنہ کھڑے خوف زدہ نظروں سے گھورے چلے جا رہے تھے۔ بعض تو اتنے صدمے میں تھے کہ وہ سوچے سمجھے بغیر سب کے سامنے رفعِ حاجت کر رہے تھے۔ ہم تو یہ سب دیکھ کر رو رہے تھے مگر وہیں کچھ پتھر دل لوگ دوسروں کا قیمتی سامان چرانے میں بھی مصروف تھے۔ میرا اپنا موبائل بھی مالِ مسروقہ میں شامل تھا، بلکہ بھائی نے تو چور کو دیکھا بھی لیکن اتنا کچھ سہنے کے بعد اس میں چور کے پیچھے بھاگنے کی ہمت نہ تھی۔ پھر یہ بھی ہے کہ ہم تو اسی چیز کے لیے شکر کرتے نہ تھکتے تھے کہ ہم زندہ ہیں۔

 

 جب ہم ہسپتال پہنچے تو شوہر وہاں نہیں تھے۔ میں نے ڈاکٹر سے درخواست کی کہ وہ مجھے غنودگی کے بغیر درد سے نجات کا انجکشن دیں تاکہ میں اپنے اس فرشتہ صفت شوہر کو ڈھونڈ سکوں۔ ڈاکٹر نے پہلے تو صاف انکار کر دیا کیونکہ وہ مجھے ہسپتال میں داخل کرنا چاہتا تھا تاہم جب میں نے زیادہ اصرار کیا تو وہ راضی ہو گیا۔ ہم ہسپتال کے ایک ایک کمرے میں شوہر کا نام پکارتے پھرے۔ ہم نے اسے ان یخ کمروں میں بھی تلاش کیا جہاں ہر طرف لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ میں روتے ہوئے اس کو نام لے کر پکار رہی تھی اور دعا کر رہی تھی کہ خدا کرے وہ مردہ خانے میں نظر نہ آئے۔ ہسپتال کے کسی ریکارڈ میں اس کے بارے میں تفصیلات درج نہ تھیں۔ غرض، کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کہاں ہے؟

 

مجھے کیمپ میں واپس لایا گیا اور میری دیکھ بھال ان مہربان خواتین نے کی جو اس جگہ میری شریکِ حال تھیں۔ انہوں نے میرے کپڑے بدلوائے اور مجھے بیت الخلا لے گئیں۔ پھر بھی میرا دل شوہر کے لیے خون کے آنسو رو رہا تھا۔ آخرِ کار مجھے بتایا گیا کہ اس کا سراغ لگا لیا گیا ہے اور وہ محفوظ ہے، الحمدللہ!

 

وہ کیمپ کے دروازے پر خود چل کر آئے جبکہ وہاں تک جانے کے لیے مجھے وہیل چیئر کی مدد لینی پڑی۔ انہیں چلتے پھرتے بلکہ پاوں پر کھڑے دیکھ کر ہی میری خوشی کی کوئی حد نہ رہی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی بہت افسوس بھی ہوا جب ہمیں پتہ چلا کہ حج کی غرض سے آئے ہوئے شوہر کے متعدد ہمکار اس عبرتناک بھگدڑ کی نذر ہو کے رہ گئے یعنی سانحہء منیٰ میں شہید ہو گئے۔

 

ایک ہی دن میں اتنی ڈھیر ساری آزمائشیں آپ کو کئی برسوں کے لیے تھکا کے رکھ دیتی ہیں، بلکہ ہم جیسوں کو تو زندگی بھر کے لیے! بہر طور مجھے اپنی خیریت کا یقین دلانے کے بعد وہ واپس اپنے کیمپ میں چلے گئے جہاں وہ موبائل کو سائلنٹ کر کے سو گئے(شاید درد کُش دوائیوں کے زیرِ اثر) اور عین اسی مقام سے ایک اور اذیت جنم لیتی ہے۔

 

میرے فرمائشی انجکشن کا اثر ختم ہو چکا تھا چنانچہ میرا سموچا جسم ، اورخاص طور پرمیرا پاؤں مجھے مارے تکلیف کےنڈھال کیےجارہا تھا۔ اذیت کی اس رات کا ایک ایک پل موت کا تجربہ تھا۔ درد کےمارے میں رات بھر اسے فون کرتی رہی مگر کوئی جواب نہیں آیا۔ میرے ارد گرد ہر کوئی خراٹے لے رہا تھا، سوائے میرے اور ایک شدید زخمی خاتون کے۔ فجر کے بعد جب اس نے اپنا فون چیک کیا تو مجھے کال کی  تب تک میں نیم مردہ ہو چلی تھی۔ میں نے اصرار کیا کہ مجھے فوری طور پہ جدہ کے ہسپتال واپس لےجایا جائے۔

 

جب میں نے اپنے شوہر کو دیکھا تو ایک لمحے کے لیے مجھے اپنے سارے دکھ درد بھول گئے۔ میں نے انھیں "عید مبارک" بول کے عید کی مبارکباد دی اور انہوں نے آنکھوں میں آنسو لیے "خیر مبارک" کہہ کر اس کا جواب دیا۔ کیونکہ اس بار همارے نزدیک عید کی قدر پہلے سے کہیں زیادہ تھی۔

 

ہم اس حالت میں گھر واپس پہنچے کہ باہر سے اندر تک برابر کچلے ہوئے تھے۔ میرے خاوند کو صحت یاب ہونے میں ایک ماہ سے زیادہ کا وقت لگا کیونکہ ان کی ٹانگوں پرکوئی جلد باقی نہیں رہی تھی۔ میں تین ماہ تک وہیل چیئر پر رہی اور مزید ڈیڑھ سال کا عرصہ شدید اذیت کے ساتھ دائیں پہلو پر جھک کر چلتے ہوئے گزارا۔

 

آخر میں یہ بھی وضاحت کرتی چلوں کہ میں نے اپنے اس دوست کو فرشتہ بھائی کیوں کہا۔ منیٰ کے سانحے میں جب ایسی بھگدڑ مچی تھی کہ ماں نے اپنی جان بچانے کے لیے بچوں کو پیچھے چھوڑ دیا تھا (ہم اس کے عینی شاہد ہیں، یوں کہ جب میرا یہ بھائی ایک خاتون کی جان بچانے کی کوشش کر رہا تھا تو  پاس ہی سے اسی عورت کی ماں نے کہا کہ اسے چھوڑو، مجھے بچاؤ، اور یہ ایسی اکلوتی مثال نہیں تھی) لیکن ایسی قیامت کی گھڑی میں بھی اس بھائی نے ہمارا ساتھ نہیں چھوڑا۔ بیشک وہ ہمارے خاندان کا حصہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔

 

ہمارے جسموں پر سانحہء منیٰ کے نشانات تو اب بھی موجود ہیں اور یہ چیز اس صدمے کی یاد تازہ رکھتی ہے۔ پھر بھی ہم اپنی زندگی کی بخشش اور صحت کی بحالی کے لیے اللہ کا جتنا شکر ادا کریں، کم ہے۔ وہ ہر جگہ ہے اور وہ ہم پر اتنی شفقت اور رحمت کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہے جس کا محض تصور ہی کیا سکتا ہے۔ یقینی طور پر وہ آپ کو خوشی میں بھی اکیلا نہیں چھوڑتا لیکن تکلیف کے عالم میں تو یہ طے شدہ بات ہے کہ اس کے سوا ہے ہی کون جو آپ کا اس طرح ساتھ دے۔ کیا آپ کے خیال میں ایسا نہیں ہے؟ آئندہ جب کبھی آپ کسی مصیبت میں پڑیں تو زرا غور کریں، حقیقت آپ پر واضح ہو جائے گی۔ کیا پتا آپ ہی وہ خوش نصیب ہوں جو خدا کو تلاش کرنے اور پا لینے کی اگلی کہانی دوسروں سے شئیر کریں گے!

 

ہمیشہ خوش و خرم رہیں، آمین!

 

اللہ تعالیٰ ہمیں دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی توفیق ارزانی کرے اور ہمیں مزید آسانیاں ارزانی عطا فرمائے آمین!