کورونا کیسز میں اضافہ، وفاقی کابینہ کا اظہار تشویش

کورونا کیسز میں اضافہ، وفاقی کابینہ کا اظہار تشویش

 اسلام آباد(نیا ٹائم)وفاقی کابینہ نے کورونا کیسزکی تعداد میں روزانہ 5 ہزارتک اضافے پرتشویش کا اظہار کیا ہے۔ کابینہ میں ماسک اورویکسی نیشن پرزوردیا گیا۔

 

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ یومیہ کورونا کیسز کی تعداد 5 ہزارتک پہنچ گئی ہے، اسپتال میں داخل ہونے کی شرح میں 2.5 فیصد اورآئی سی یو کی شرح میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی کابینہ نے یومیہ 5 ہزار کورونا کیسز پر تشویش کا اظہار کیا۔اجلاس میں اومیکرون سے بچاؤ کیلئے ایس اوپیز، ماسک اورویکسی نیشن پرزو دیا گیا، جبکہ بندشیں لگا کر کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرنے سے گریز کیا جائے گا۔

 

علاوہ ازیں وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ اومی کراؤن کے پھیلاؤ پرکابینہ اجلاس میں بریفنگ دی گئی۔ یو ایم میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے، سب سے اہم چیز ویکسینیشن ہے، دونوں ڈوز سے ویکسین کروانے والوں پر اومی کرون کا اثر بہت کم ہے، صوبہ سندھ ویکسینیشن میں سب سے پیچھے ہے، سب سے زیادہ کیسز کراچی میں ہیں۔ وہاں کے سکولوں کے بچے بھی زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ پاکستان نے مفت میں ویکسین خریدنے کے لیے 2 ارب ڈالرخرچ کیے ہیں۔ ویکسین کی خریداری بھی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ایک بڑا حصہ ہے۔

 

کابینہ نے موثر قانون سازی اورملکی ترقی میں پارلیمنٹ کے کردارپر تبادلہ خیال کیا۔ اسٹیٹ بینک کی بات کریں تو یہ بل جلد سینیٹ میں منظورکرلیا جائے گا۔ ایسے ارکان کو قائمہ کمیٹیوں میں شامل نہیں کیا جائے گا جو اسی طرح کام کرتی ہیں، اس لیے انہیں تبدیل کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ کابینہ کو یوریا کھاد کی پیداوارپربریفنگ دی گئی۔ 

 

گندم کی پانچ ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ کھاد کی مارکیٹ دباؤ کا شکار ہے لیکن پاکستان کے بیشترعلاقوں میں کھاد دستیاب ہے اور کسانوں کو مل رہی ہے۔ کابینہ نے بجلی کی ترسیل کے نظام پر بھی بات کی ہے، تاکہ بجلی کے نقصانات کو کم کیا جا سکے۔پاکستان میں یہ پہلا سال ہے جب گردشی قرضہ کم ہونا شروع ہوا ہے۔ بڑے شہروں میں گرین ایریاز بڑھانے اورقبضہ مافیا کے خلاف کارروائی پر بھی بات ہوئی۔

 

وزیراعظم نے بڑے شہروں کا ماسٹر پلان مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وفاقی وزیر توانائی حماد اظہرنے کہا کہ کابینہ کے فیصلے کے مطابق گیس کے لیے گھریلو صارفین کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ کراچی میں گھریلو صارفین کو سردیوں میں ایک ماہ کے لیے صنعتی گیس فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ سٹیٹ بینک پر سیاست کر رہی ہے۔ مسلم لیگ ن نے 2015 میں اسٹیٹ بینک کی خودمختاری پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ اسٹیٹ بینک پاکستان میں اتنا آزاد نہیں جتنا یورپ میں ہے۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر، ڈپٹی گورنرز اور بورڈ ممبران کی تقرری کا اختیار حکومت کے پاس ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کا تحفظ کیا ہے۔

 

نیب نے مریم نواز کے خلاف اپیل دائر کر دی