حجاب پہننے پر مسلمان طالبات کے کلاس روم میں داخلے پر پابندی

حجاب پہننے پر مسلمان طالبات کے کلاس روم میں داخلے پر پابندی

بنگلور ( نیا ٹائم ویب ڈیسک ) دنیا کی بڑی جمہوریت کا دعویٰ کرنے والے بھارت کی انتہا پسندی بے نقاب ہونے لگی ، بھارت کے کالج نے حجاب پہننے پر 6 مسلمان طالبات کو کلاس سے بے دخل کر کے ان کا کلاس روم میں داخلہ بند کر دیا ۔

بھارتی ریاست کرناٹکا کے ضلع ادوبی کے گرلز کالج میں زیر تعلیم مسلمان لڑکیوں 18 سالہ الماس اور اس کی 5 دوستوں کو کلاس ٹیچر نے حجاب پہننے پر کلاس سے نکال دیا اور ان کے کلاس روم میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ۔

الماس نے کہا " جب ہم کلاس  کے دروازے پر پہنچے تو ٹیچر نے کہا کہ ہم حجاب کے ساتھ کلاس میں داخل نہیں ہو سکتیں ، اگر جماعت میں بیٹھنا ہے تو حجاب کو اتارنا ہو گا " ۔

الماس کا کہنا ہے کہ حجاب اور دستانے ہمارے ایمان اور مذہب کا حصہ ہے جو ہمیں ہر طرح کی بری نظروں سے محفوظ رکھتا ہے ۔ قانون ہم پر پابندی عائد نہیں کرتا تو کالج انتظامیہ کیوں ہم پر دباؤ ڈال رہی ہے ۔

طالبات نے مزید کہا کہ انتظامیہ دباؤ ڈال کر ہمارے حجاب اتروانا چاہتی ہے جس میں انہیں کسی بھی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گی کیونکہ مذہب کے معاملے پر ہم کسی قسم کا دباؤ برداشت نہیں کریں گی ۔

طالبات کا کہنا تھا کہ 31 دسمبر کے بعد سے ہمیں کلاس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور ہم سیڑھیوں پر بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور ہیں ۔ دوسری طرف کلاس ٹیچر ہماری غیر حاضریاں شمار کر رہی ہیں ۔

کالج انتظامیہ نے بھی طالبات کے احتجاج کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے حجاب اور دستانے کالج یونیفارم کا حصہ نہیں ہیں ، ان کے بغیر ہی طالبات کو کلاس روم میں داخلے کی اجازت دی جا سکتی ہے ۔

کالج پرنسپل گودوا کا کہنا ہے کلاس روم میں حجاب پہننے کی اجازت نہیں اور نہ ہی ہے یونیفارم کا حصہ ہے ، ہم نے وزارت تعلیم کی ہدایات کی روشنی میں ہی اقدامات اٹھائے ہیں ۔

 

بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کا سوشل میڈیا پر مذاق بن گیا