پی ٹی آئی کی سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ خفیہ رکھنے کی درخواست مسترد

پی ٹی آئی کی سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ خفیہ رکھنے کی درخواست مسترد

اسلام آباد ( نیا ٹائم ) پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے غیر ملکی فنڈنگ کیس میں سکروٹنی کمیٹی کے رپورٹ کے کچھ حصہ خفیہ رکھنے کی درخواست الیکشن کمیشن نے مسترد کر دی ۔

الیکشن کمیشن میں پاکستان تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کے حوالے سے کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نے کی ۔

پی ٹی آئی کی طرف سے سابق اٹارنی جنرل انور منصور نے الیکشن کمیشن میں پیش ہو کر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے سیاسی جماعتوں کی سکروٹنی خوش آئند بات ہے ،تاہم پاکستان تحریک انصاف کی سکروٹنی پہلے کر لی گئی ۔ اس سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں بھی کئی خامیاں موجود ہیں ۔ رپورٹ میں بہت سے اعداد و شمار واضح نہیں،رپورٹ میں کئی اعداد و شمار کو دہرایا بھی گیا ہے ۔  

انور منصور نے الیکشن کمیشن سے استدعا کی کہ مجھے دو دن پہلے ہی اس کیس میں ہائر کیا گیا ہے ، مجھے وقت درکار ہے ، کچھ چیزوں پر غور کرنا چاہوں گا ، اگر ہماری کچھ غلطیاں ہیں تو ہم تسلیم کریں گے تاہم کمیٹی کی جانب سے غلطیاں کی گئی ہیں تو انہیں درست کیا جائے ۔

الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کیس کے درخواست گزار اکبر ایس بابر کے وکیل نے کہا کہ سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کے کچھ حصہ ہمیں فراہم نہیں کئے گئے ۔

چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے رپورٹ کے کچھ حصہ خفیہ رکھنے کی استدعا کی گئی تھی جسے مسترد کر دیا گیا ہے ، اب کوئی بھی دستاویز خفیہ نہیں رہی ۔

الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کے سربراہ سپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن بھی سماعت کے دوران پیش ہوئے اور بتایا کہ ایک ممبر کی ریٹائرمنٹ کے بعد سکروٹنی کمیٹی غیر فعال ہو گئی ہے ، پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا کیس بھی اسی نوعیت کا ہے ۔ جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ جلد سکروٹنی کمیٹی کی تشکیل نو کر دی جائے گی ۔ الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے تحریری حکم نامہ بھی جاری کر دیا ہے ۔

 

فرخ حبیب کا فارن فنڈنگ کا الزام لگانے والوں سے معافی کا مطالبہ