محکمہ موسمیات کی بارشو ں اور برفباری کی پیش گوئی

محکمہ موسمیات کی بارشو ں اور برفباری کی پیش گوئی

لاہور(نیا ٹائم )محکمہ موسمیات کی جانب سے  اگلے ہفتے سے مری اور خیبر پختونخوا کے چند اضلاع میں بارشوں اور  پہاڑوں پر برف باری کا امکان ظاہرکر دیا گیا۔

 

ترجمان محکمہ موسمیات کے مطابق ملکہ کوہسارمری، شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر میں آئندہ ہفتے منگل سے جمعرات تک برف باری کا امکان ہے۔پراونشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے)خیبرپختونخواکیجانب سے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے مراسلہ بھی  بھجوا دیا گیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل  پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو بارشوں اور برفباری سے متعلق  پیشگی اقدامات کی ہدایات کی گئی ہے  جبکہ سروس  روڈزکی بحالی کیلئے مشینری کی دستیابی  کوبھی یقینی بنانے کا کہا گیا ہے۔

 

اس کے علاوہ پراونشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے بھی  سیاحوں کو سفر  کے دوران احتیاطی تدابیراختیار کرنے کی ہدایت بھی سامنے آئی ہے۔محکمہ موسمیات کا بتانا ہے کہ ملک کے  بالائی اضلاع میں بارش اور برف باری کی وجہ سے  لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خطرہ  ہے۔ترجمان محکمہ موسمیات کے مطابق چترال،دیر، سوات، مالاکنڈ، کوہستان، شانگلہ اور بونیر میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلے جاری رہنے کا امکان  ہے  جب کہ مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، صوابی، مردان اور نوشہرہ میں بھی  شدید بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

 

ترجمان نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے )کا کہنا ہے کہ دیر، مالاکنڈ، ہزارہ، سوات میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے جس کے بعد ان تمام علاقوں میں الرٹ  بھی جاری کر دیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق  پشاور، چارسدہ، کوہاٹ، باجوڑ  اور کرم میں بھی بارش کا امکان ہے جب کہ گلیات، ناران، کاغان، چترال اور دیر کے پہاڑوں پربھی برف باری کا امکان ہے۔ادھر راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین میں بھی شدید بارشوں کی پیش گوئی سامنے آئی ہے ۔

 

واضح رہے کہ سال نو کے آغاز کے اوائل میں ہی مری میں ہونےوالی شدید برفباری کے باعث 22 سیاح سردی سے ٹھٹھر کر جاں بحق ہو گئے تھے اس سلسلے میں مقامی انتظامیہ کیساتھ ساتھ محکمہ موسمیات پر بھی تنقید سامنے آئی تھی جس میں یہ بات کہی گئی تھی کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے موسم  کی خرابی اور برفباری کے حوالے سے کوئی پیش گوئی سامنے نہیں آئی تھی  جس کے باعث یہ سانحہ رونما ہوا۔

 

 

سندھ، پنجاب کے مختلف علاقے شدید دھند کی لپیٹ میں