" فنگر پرنٹ گن "کی ایجاد کا خواب کیسےحقیقت بنا

نیویارک (نیا ٹائم ویب ڈیسک) "لوڈ سٹار ورکس" نامی امریکی کمپنی نے دنیا کی پہلی فنگر پرنٹ سمارٹ گن متعارف کروا دی۔

 

ٹیکنالوجی کی دنیا میں حیرت انگیز ایجاد سامنےآگئی۔امریکی کمپنی نے 9 ایم ایم کی ایسی سمارٹ گن ایجادکردی جو اب صرف مالک کی انگلیوں کے نشانات سے ہی کام کرے گی۔اس میں "فنگر پرنٹ سینسر" اود "چپ" کو نصب کیا گیا ہے جس کو موبائل ایپ کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے جبکہ اس میں ایک "پن پیڈ" بھی موجود ہے۔فنگر پرنٹ سینسر سے چند سیکنڈز میں پستول "ان لاک" ہو سکے گی۔

 

ان لاک نہ ہونےکی صورت میں پن پیڈ کےذریعے پستول کو قابلِ استعمال بنایا جا سکتا ہے۔ پستول میں موجود چپ میں بھی بیک اپ رکھا گیاہے تاہم اس کے طریقہ استعمال کی کمپنی کی جانب سے وضاحت نہیں کی گئی۔کمپنی کے مطابق اس سمارٹ گن کی قیمت تقریباً 895 ڈالر ہو گی۔

 

کمپنی کےبانی کےمطابق اکثرایسےواقعات رونما ہوتے ہیں جب بچے غلطی سے والدین کی پستول چلا دیتے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ ان واقعات کے پیشِ نظر یہ خیال ذہن میں آیا کہ کیوں نہ ایسی پستول ایجاد کی جائے جس سے ایسے واقعات سے محفوظ رہا جا سکے۔

 

کمپنی نے واضع کرتے ہوئے کہا کہ اس پستول سے نہ صرف خودکشی کے بڑھتے واقعات کو روکا جا سکے گا بلکہ جرائم کی کمی میں بھی یہ مددگار ثابت ہو گی۔

 

یاد رہے کہ 2012 میں جیمز بانڈ سیریز کی فلم "سکائی فال" میں ایسی ہی سمارٹ گن کو دکھایا گیا تھا جس کو صرف فنگر پرنٹس کے ذریعے ہی قابلِ استعمال بنایا جا سکتا تھا۔

 

عمران خان بدترین تنہائی کا شکار ہیں ،کس کادعوی