آئی ایم ایف کے ہاتھوں کون مجبور،وزیراعظم نے بتادیا

آئی ایم ایف کے ہاتھوں کون مجبور،وزیراعظم نے بتادیا

راولپنڈی (نیا ٹائم ) وزیراعظم عمران خان نے قومی سلامتی پالیسی کی دستاویز پر دستخط کر دیے ہیں۔ جس کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت کمزور ہوگی تو دفاع بھی کمزور ہوگا اس لیے مجبوری کی صورت میں آئی ایم ایف کے پاس جانا ہی پڑتا ہے۔

 

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مشکل میں آئی ایم ایف کی شرائط ماننا پڑتی تھی اور اگر آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کیا جائے تو سیکیورٹی متاثر ہوتی ہے۔ نیشنل سیکیورٹی پالیسی کو بڑی محنت سے مرتب کیا گیا ہے۔ عمران خان نے مزید کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور ہمارے پاس سوویت یونین کی مثال موجود ہے۔ ایک مضبوط فوج ہونے کے باوجود وہ ایک نہ رہ سکا۔ ملک کی حفاظت پر مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ ملٹری سیکیورٹی قومی سلامتی کا صرف ایک پہلو ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایک نظم و ضبط اور تربیت یافتہ فوج ہے اور ہم ریاست اور عوام کو ایک ہی راستے پر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ریاست اپنے کمزور طبقات کی ذمہ داری لیتی ہے۔وزیر اعظم نے خطاب میں مزید کہا کہ تعلیمی نظام بھی قوم بناتی ہے اور سندھ کے سوا تمام صوبوں کو ہیلتھ انشورنس دی جا چکی ہے۔ پاکستان کو اس وقت قانون کی حکمرانی کے چیلنج کا سامنا ہے۔

 

آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ نے قومی سلامتی پالیسی کے اجراء کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے والی جامع پالیسی کی تشکیل ایک بہترین قدم ہے۔یہ دستاویز قومی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔

 

طالبان کا پہلا بجٹ منظور،بجٹ میں کن اشیا پرپابندی لگائی گئی