طالبان کا پہلا بجٹ منظور،بجٹ میں کن اشیا پرپابندی لگائی گئی

طالبان کا پہلا بجٹ منظور،بجٹ میں کن اشیا پرپابندی لگائی گئی

کابل(نیا ٹائم ویب ڈیسک)طالبان کی جانب سے اگست 2021 میں افغانستان میں اقتدارسنبھالنے کے بعد اپنا پہلا بجٹ منظورکرلیا گیا ہے۔ بجٹ میں متعدداشیاپرپابندی عائدکردی گئی ہے۔

 

افغانستان میں امریکہ کی جانب سے بیشتر افغان اثاثے منجمد کئے جانے کے بعد خطے میں تیزی سے بھوک اور افلاس بڑھتی جا رہی ہے۔ان حالات میں طالبان حکومت کے لیے ملکی امور کو بہتر طریقے سے چلانا ایک چیلنج بن گیا ہے۔تاہم طالبان کابینہ کے پہلے منی بجٹ منظور کرنےسےاس امر کی نشاندہی ہوتی ہےکہ افغان طالبان موجودہ صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

 

طالبان کا دعوی ہے کہ یہ پہلا بجٹ ہے جوکسی بیرونی امدادپرانحصارکیےبغیر تشکیل دیاگیاہے۔گزشتہ 40 سال میں ایسی اورکوئی مثال نہیں ملتی، بجٹ میں غیر معیاری گیس، تیل، کھاد اور دیگر غیر معیاری اشیا کی درآمد پر پابندی لگا دی گئی ہے اور مستقبل میں اس جرم کے مرتکب افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 

غیرملکی میڈیا نے دعوی کیاہےکہ طالبان کے منظور کیے جانے والے مذکورہ بجٹ میں کسی بھی غیرملکی امداد کاحوالہ نہیں دیا گیا۔طالبان کی وزارت خزانہ کے ترجمان احمد ولی حقمل نے اپنے بیان میں کہا کہ 2 دہائیوں بعد یہ پہلا موقع ہےجب ہم نے ایسا بجٹ تشکیل دیا ہے جس کا دارومدار غیرملکی امداد پرہرگزنہیں ہےاورہمارےلئے یہ بڑی کامیابی سے کم نہیں ہے۔

 

ترجمان نے مزید کہا کہ جن خواتین کے ملازمت کرنے پر پابندی لگائی گئی ہے انہیں ان کی نوکریوں سے بے دخل نہیں کیا جائے گا اورتنخواہیں بھی پوری دی جائیں گی۔ جن سرکاری ملازمین کومتعدد مہینوں سے تنخواہیں نہیں دی گئی ہیں انہیں رواں ماہ کے اختتام تک تنخواہوں کی ادائیگی کا عمل یقینی بنایا جائے گا۔

 

طالبان حکومت کی جانب سے 2022کی پہلی سہ ماہی کے لئے بجٹ کی منظوری دی گئی ہے۔ سرکاری اداروں کی فنڈنگ کے لئے 53.9 بلین افغانی یا 508 ملین امریکی ڈالرزکا تقریباً پورا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔بجٹ میں 4.7 بلین افغانی ٹرانسپورٹ کے انفرااسٹرکچرسمیت ترقیاتی پراجیکٹس پرخرچ کئے جائیں گے۔

 

چاروں شریف پاکستان کی سیاست سے مائنس، شیخ رشید