سرگودھا کا علاقہ گوند پور میدان جنگ میں تبدیل

سرگودھا کا علاقہ گوند پور میدان جنگ میں تبدیل

سرگودھا(نیا ٹائم)دوگروپوں میں اندھا دھند فائرنگ کا تبادلہ کے باعث  علاقہ آدھا گھنٹہ گولیوں کی تڑتڑاہت سے گونجتا رہا، پولیس بے بسی کی تصویر بنی رہی۔

 

تفصیلات کے مطابق تھانہ میانی کی حدود میں گوند پور کے علاقے کے بھٹی اور ککرے گروپ آمنے سامنے آگئے، دونوں گروپوں نے  ایک دوسرے پر جدید آتشیں اسلحہ سے فائرنگ کرتے رہے جس کی  ویڈیوزسوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں ہیں۔ ویڈیو میں ملزمان کو جدید اسلحہ سے سرعام فائرنگ کرتے دیکھا جاسکتا ہے، بلونائی گینگ نے علاقہ گوند پور کو نو گوایریا میں تبدیل کر دیا۔

 

 تھانہ میانی کو متعدد کالز کی گئیں لیکن پولیس موقع پر نہ پہنچی،  ملزمان دن دیہاڑے جدید اسلحہ سے مخالفین کے گھروں پر بھی فائرنگ کرتے رہے، تھانہ میانی پولیس کو جرائم پیشہ بلو نائی گینگ نے  کھلا چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ گرفتار کرسکتے ہو تو کر لو۔

 

جبکہ دوسری جانب ای ایس پی سیہون سعد ارشد کی تعیناتی کے باوجود بھی قلندر کی نگری سیہون شریف میں امن امان قائم نہ ہوسکا

تفصیلات کے مطابق چھوٹی بڑی چوریوں سمیت ڈکیٹی کی وارداتوں میں اضافہ ہونے لگا، شہری غیر محفوظ  ہوگئے ہیں، ایس ایچ او سیہون کی تعیناتی کے بعد 2 بڑی ڈکیتیوں سمیت چوریوں کے واقعات میں کمی نہ آسکی، کچھ روز قبل بندر محلہ نزد واٹر سپلاء کے قریب ریٹائرڈ پولیس ہیڈ کانسٹیبل کے گھر میں چار مسلحہ ڈاکوؤں نے ڈاکا ڈالا تھا

 

 مسلحہ ڈاکو ریٹائرڈ پولیس ہیڈ کانسٹیبل کے گھر سے 12 لاکھ کے قریب مالیت کی ڈکیٹی کر کے فرار ہوگئے، گزشتہ شام سیہون کے مصروف شاھراہ دادو روڈ کھوسہ محلہ سے تین مسلحہ ڈاکوؤں نے کنفشنری کی دوکان پر ڈاکا ڈالا۔ مسلحہ ڈاکوؤں نے ساجد انصاری کی دوکان سے اسلحہ کے دم پر پانچ لاکھ کے قریب نقدی لے اڑے۔ پولیس خواب خرگوش کے مزے لینے میں مصروف نظر آرہی ہے۔

 

کچھ گھنٹہ قبل مسلحہ ڈاکوؤں نے انڈس ہائی روڈ لوکل بورڈ کے مقام کار سواروں کو لوٹ لیا،مسلحہ ڈاکوؤں نے لاڑکانہ سے تعلق رکھنے کار سوار افراد سے لوکل بورڈ کے مقام پر موبائل فونز، اور نقدی لوٹ کر فرار ہوگئے، شہریوں نے وزیراعلی سندھ آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی حیدرآباد سے چوریوں اور ڈکیتیوں کے واقعات پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

 

فتح جنگ عوام کا دیرینہ مطالبہ آخر کار پورا ہوگیا