• Thursday, 27 January 2022
فرانس میں مسجد کو تالے لگ گئے

فرانس میں مسجد کو تالے لگ گئے

پیرس ( نیا ٹائم ویب ڈیسک ) فرانسیسی شہر کین میں یہودی مخالف بیان پر مسجد کو تالے لگوا دئیے گئے ۔ فرانسیسی وزیر داخلہ جیرالڈ ڈرمینن کا کہنا ہے کہ کین کی مسجد کو یہود مخالف بیانات کی وجہ سے بند کیا گیا جبکہ مسجد انتظامیہ نے کالعدم تنظیم کی حمایت کر کے بھی خلاف ورزی کی ہے ۔

ذرائع کے مطابق فرانس میں 70 مساجد کو بنیاد پرستی کے زمرے میں رکھا گیا ہے ۔ واضح رہے دو ہفتے قبل بھی پیرس کے شمالی علاقے کی ایک مسجد کے امام کو مبینہ طور پر بنیاد پرستی پر مبنی خطبہ دینے پر مسجد کو 6 ماہ کے لیے بند کر دیا گیا تھا ۔ فرانس میں مساجد اور نماز ہالز کی تعداد تقریباً 2623 ہے ۔

واضح رہے سال 2020 میں فرانس کے سکول میں طالب علموں کے سامنے گستاخانہ خانے دکھانے والے استاد کا سر قلم کر دیا گیا تھا جس کے بعد فرانسیسی صدر نے واقعہ اور اس سے متعلق دیگر حملوں کے معاملے پر فرانسیسی سیکولر ازم کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کئی متنازع بیانات دئیے ۔جس کی وجہ سے مسلمانوں کی جانب سے دنیا بھر میں فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ اور احتجاج کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا ۔

جس کے بعد فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے مسلم رہنماؤں کو 15 روز کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ وہ فرانس میں بنیاد پرستی کی روک تھام کے لیے " میثاق جمہوری اقدار" قبول کر لیں ۔ جس ے بعد اسلام کو صرف سیاسی تحریک کے بجائے مذہب سمجھا جائے گا ۔

فرانسیسی صدر کے بیان کے بعد سے فرانس بھر میں مساجد کے خلاف کریک ڈاؤن اور تحقیقات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا اور بنیاد پرستی کے الزامات لگا کر کئی مساجد بند کی جا چکی ہیں ۔

 

برطانوی وزیر اعظم نے معافی مانگ لی