حکومت کو فوری ہٹانے پر بات چیت جاری ہے ، فضل الرحمان

حکومت کو فوری ہٹانے پر بات چیت جاری ہے ، فضل الرحمان

اسلام آباد ( نیا ٹائم ) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت کو فوری طور پر ہٹانے کے حوالے سے بات چیت جاری ہے ۔

پی ڈی ایم کے سربراہ نے کہا کہ 23 مارچ کو ہونے والا مہنگائی مارچ انقلابی قدم ہو گا ۔ حکومتی اتحادیوں سے بھی اپیل ہے کہ وہ بھی غور کریں کہ حکومت کیا کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا ہے کہ وہ ملک کو غیر ملکی اداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں ۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں شکست سے بچنے اور مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے نئے لوگوں کو تعینات کیا جا رہا ہے ۔ جو کہ پری پول دھاندلی کے مترادف ہے ۔ الیکشن کمیشن اس حوالے سے کسی کی بھی غلامی نہ کرے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ منی بجٹ سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان اٹھے گا ۔ حکومت کو عوام کے بجائے عالمی اداروں کے مفادات عزیز ہیں ۔ موجودہ صورتحال میں تو 23 مارچ کا لانگ مارچ اور بھی زیادہ ضروری ہو گیا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ عوام بھی براہ راست اپنے حقوق کی جنگ لڑے ۔ پی ڈی ایم مارچ کی قیادت کرتے ہوئے عوامی آواز بنے گی ۔

جمیعت علمائے اسلام اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ میاں نواز شریف کے دور حکومت میں ملک میں موٹرویز کا جال بچھایا گیا ، بجلی کی پیداوار بڑھی ، چین کے ساتھ دوستی اقتصادی دوستی میں بدل گئی ۔ ہم بند کمروں میں افتتاحوں کے قائل نہیں ، سی پیک کی صورت چین جو بڑی رقم پاکستان میں انوسٹ کر رہا تھا اسے بھی جمود کی طرف دھکیلا جا رہا ہے ۔

انہوں میڈیا کو بتایا کہ 5 فروری کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے ہکلہ سے ڈیرہ اسماعیل خان تک ریلی کی صورت جائیں گے جبکہ 25 جنوری کو پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا سربراہی اجلاس بھی ہو گا ۔ جس میں 23 مارچ کے لانگ مارچ سمیت 5 فروری کی ریلی کے انتظامی معاملات پر بھی گفتگو ہو گی ۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو فوری طور پر رخصت کرنے کے حوالے سے بھی مشاورت کر رہے ہیں ۔ حکمران پاکستان کو دوبارہ کالونیل دور میں دھکیلنا چاہتے ہیں ۔

 

شہباز شریف نے پی ٹی آئی کی حکومت کو کرپٹ قرار دے دیا