پی ایس ایل7 بمقابلہ کورونا

پی ایس ایل7 بمقابلہ کورونا

 

پی ایس ایل 7 معرکہ سے قبل جوں جوں وقت قریب آتا جا رہا ہے کورونا بھی تیزی سے اپنے پنجے گاڑ رہا ہے۔ پی ایس ایل کی آمد کے ساتھ ساتھ کورونا کی آمد نے پی سی بی اور شائقین کرکٹ کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ کورونا کے ساتھ اس سال ایک نیا ویرینٹ اومیکرون بھی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لےرہا ہے،اس صورتحال کو مدنظررکھتے ہوئے پی سی بی نےکچھ اہم فیصلے کیےہیں۔ان فیصلوں کامقصد پی ایس ایل کےدونوں مراحل کو احسن طریقےسےمکمل کرناہے،اگرپی ایس ایل میں کچھ وقفہ آجائےتواس میگاایونٹ کودوبارہ شروع کرنا انتہائی مشکل ہے۔

 

جیسا کہ ہم نے گزشتہ سال دیکھا جب کورونا کے باعث پہلے مرحلہ کے بعد کچھ میچزکوملتوی کیا گیا تو دوبارہ پی ایس ایل کو شروع کرنا انتہائی مشکل ہوا۔ ان تجربات کومدنظررکھتے ہوئے پی سی بی نے پی ایس ایل کو ہر صورت مکمل کرنے کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں جن کے تحت اگرایونٹ کےدوران کورونا بہت زیادہ پھیل جاتاہےتو پی ایس ایل کو زیادہ نہیں صرف 7 دن کےلیےملتوی کیاجائےگا اور میچزری شیڈول ہونگے۔ تمام کھلاڑی کسی ایک ہوٹل میں قرنطینہ کریں گے۔اس کے ساتھ ساتھ پی سی بی نے پچیس سے تیس کھلاڑی جوابھی تک کسی ٹیم کا حصہ نہیں بنے وہ بھی اسی ہوٹل میں پی ایس ایل کےاختتام تک قرنطینہ کریں گےاورٹیم کےہمراہ رہیں گے۔ اگر کسی ٹیم کےکسی کھلاڑی کو کورونا ہواتویہ کھلاڑی ان کی جگہ ٹیم کا حصہ ہونگے۔

 

اس کےعلاوہ پی سی بی نے یہ فیصلہ بھی کیاہےکہ اگرکسی ٹیم کے 20 کھلاڑیوں میں سے 8 کھلاڑیوں کوکوروناہوجائےتو بھی 12 میچزجاری رہیں گے، میچزملتوی نہیں ہوگے۔اس کےعلاوہ پی سی بی ایک اہم فیصلہ پربھی غورکررہی ہےاگر پی ایس ایل کی آمد سے قبل کورونا پھیل جاتا ہے، پی ایس ایل کسی ایک شہرمیں کروایاجائےتوکھلاڑی اسکویرببل کےتحت بہترین کورونا ایس او پیزپرعمل کرسکتے ہیں اس سلسلے میں کراچی کوبہترین شہرقراردیاجارہاہے،مگرسندھ انتظامیہ کورونا کی بڑھتی ہوئی خراب صورتحال کی وجہ سے پی ایس ایل کے دونوں مراحل صرف کراچی میں کروانےپرمعذرت کررہی ہے۔

 

لاہور میں جنوری کےاختتام اورفروری کےآغاز میں شدید دھند کی وجہ سے میچز کا انعقاد ممکن نہیں۔ اس سلسلے میں پی سی بی نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا کہ پی ایس ایل کے دونوں مراحل لاہور اور کراچی میں کرائے جائیں گے یا کسی ایک شہر میں ہوں گے،تاہم پی سی بی کے کورونا سے متعلق اہم اقدامات سے شائقین کرکٹ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ اس سال پی ایس ایل بہترین طریقےسےاختتام پذیرہوگا اور وہ اپنے کھلاڑیوں کو اوراپنی پسندیدہ ٹیم کو میدان میں ایکشن میں دیکھ سکیں گے۔

 

 

(نوٹ:مندرجہ بالاتحریربلاگرکاذاتی نقطہ نظرہوسکتاہے،ادارہ کااس سےمتفق ہوناضروری نہیں)