یادِ ماضی عذاب ہے !!

یادِ ماضی عذاب ہے !!

آج بھی ہاسٹل کے وہ دن یاد آتے ہیں جب ایک بھی اونچی آواز سُننے پہ یہ دھڑکا لگ جاتاتھا کہ کہیں پھرسےپنجابیوں کی سختی تو نہیں آگئی ؟ ہروقت اک عجیب سی کیفیت ذہنوں پہ چھائی رہتی تھی کہ نہ جانے کب پھرسےپاکستان اور پنجاب کے خلاف گالیوں بھرے نعرے سننے پڑیں گے؟ یہ وہ وقت تھاجب ہم زمانہ طالب علمی میں مہران یونیورسٹی جامشورو میں زیرِ تعلیم تھے۔ جہاں پہ کچے ذہنوں میں پکا تعصب نقش کیاجاتا تھا۔ جیے سندھ سٹوڈنٹ فیڈریشن JSSF کےنام سےمشہورطلبا تنظیم قوم پرست سیاسی جماعت جیے سندھ قومی محاذ ( جسقم ) کے پرچم تلےکام کرتی تھی ، جس کا واحد مقصد پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانا تھا نہ کہ اسٹوڈنٹس کے حقوق کےلیےکام کرنا تھا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو بلیک میل کرکےاپنےاراکین کوپاس کرانا اورمالی مفادات حاصل کرنا ایسی تنظیموں کی اوّلین ترجیع ہوتی تھی۔

 

جس پارٹی کے بانی کا یہ قول یونیورسٹی کی دیواروں پر لکھا ہوا ملے کہ “ ہم مسلمان تو چودہ سو سال سےہیں مگرسندھی ہزاروں سال سے ہیں “ خود ہی اندازہ لگا لیں کہ جو اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن ایسے قوم پرست نظریات کی حامل ہو وہ کیسے اسٹوڈنٹس کےتحفظ اورفلاح کے لیےکام کر سکتی تھی۔ اندرون سندھ کی بیشتر یونیورسٹیوں میں عمومی طور پر پنجابیوں اور اردو بولنے والوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا( آجکل کے حالات کا اندازہ نہیں ) اور اپنا واحد دشمن تصور کیا جاتا تھا حالانکہ پنجاب میں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ یہاں پنجاب میں دوسرے صوبوں کے لوگوں کو خصوصی طور پر عزت دی جاتی ہے۔ یہ بات دوسرے صوبوں کے وہ لوگ خود بھی مانتے ہیں جو کبھی پنجاب میں رہ کر گئے ہیں یا پھر رہ رہے ہیں۔اور تو اور سندھ کی جامعات میں پنجابیوں کے خلاف نفرت کے نعرے لگانے والے طلباء بھی خود پنجاب میں آکرمتاثرہوتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ انہوں نے پنجاب کے بارے میں سوچ اور سن رکھا تھا ویسا بالکل بھی پنجاب کے اندر نہیں ہے۔

 

یونیورسٹی سے جُڑی یادوں میں جہاں بہت ساری سنہری یادیں وابستہ ہوتی ہیں وہیں پہ سندھ کی جامعات کی طلباء تنظیموں کی تعصب پرستی کی کچھ تلخ یادیں بھی وابستہ ہیں۔ مثال کے طور پر کالاباغ ڈیم اور گریٹر تھل کینال کے خلاف ہر جمعہ کو یونیورسٹی کے طلباء کو زبردستی حیدرآباد پریس کلب کے باہر پنجاب اور پاکستان کے خلاف نعرے بازی کروانا اور دھرنے کے نام پر رات گئے تک وائس چانسلر آفس کے باہر نام نہاد طلباء کے مفادات کی خاطر تمام طلباء کو زبردستی بٹھا کے رکھنا تلخ یادوں میں شامل ہیں۔ پنجابی ہونے کے ناطے اپنے ہی مُلک میں اپنی شناخت چھپانے پہ آج بھی شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ اپنے ہی ملک میں پاکستان کاجھنڈا اوراپنےملک کے بانی قائداعظم کا نام لینا اورتصویرلگانا جرم تصورکیاجاتاتھا۔ ان ساری باتوں پہ یہاں کے لوگ یقین نہیں کریں گے کیونکہ یہاں تعصب نامی کسی چیز کا تصورنہیں کرسکتے۔

 

بہت افسوس سے یہ بات کہنی پڑتی ہے کہ کسی بھی ملک کی جامعات کو انسانی ترقی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے مگر ہمارے ملک کے چھوٹے صوبوں میں ایسی طلبا تنظیموں کو سرِعام کام کرنے کی اجازت ہے جو کہ اپنے ہی ملک کے خلاف زہر افشانی کا کام کرتی ہیں اور طلبا جنہوں نے مُلکی ترقی میں اہم کردار کرنا ہوتا ہے کے ذہنوں میں تعصب کا بیج بو دیا جاتا ہے جو کہ اُن طلبا کی آنے والی زندگی کے لیے ان کے دماغوں میں نقش ہوجاتا ہے جس سے وہ کبھی بھی ملک کی ترقی اوربھلائی کےلیےکام نہیں کرسکتے۔ مذکورہ یونیورسٹیوں کے طلبا کے دلوں کے اندر پنجاب اور باقی پاکستان کا ایسا امیج بنا دیا جاتا کہ یہ طلبا سندھ کےعلاوہ کہیں دوسرے صوبے میں کوئی نوکری تلاش کرنا بھی گوارا نہیں کرتے بلکہ اسی کوشش میں ہوتے ہیں کہ انہیں ان کے صوبے میں ہی چھوٹی موٹی نوکری مل جائے۔ جبکہ دوسری جانب پنجاب کےطلبا کوتعلیم کےبعد پاکستان کے کسی بھی کونے میں نوکری مل جائے تو وہ وہاں جانے کو تیار ہوجاتے ہیں حالانکہ بعض اوقات ان کی جان کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔

 

سندھ کی اکثرجامعات میں سندھی کےعلاوہ کوئی اور زبان بولنے کو برا سمجھاجاتاتھا اورتواورتمام ٹیچرزکوبھی لیکچرزسندھی زبان میں دینےکامطالبہ کیاجاتا تھاجوکہ اُن طلبا کی سمجھ سےباہرہوتی ہےجوکہ سندھی زبان سے ناواقف ہوتے ہیں۔ سندھ کی جامعات میں جہاں ایک طرف تو تمام صوبوں اور بیرون ملک کے طلبا کے لیے کوٹہ مختض ہے تو دوسری طرف پنجاب کے لیے ایک بھی سیٹ مختص نہیں اور اگر ہوتی بھی ہے تو اس پر بھی وہیں کے لوگ پنجاب کے ڈومیسائل پر ایڈمشن لےلیتےہیں اوریوں پنجاب کےطلبا اپنےجائزحق سے محروم ہو جاتے ہیں۔سوچنے کی بات ہےکہ ایک ہی ملک کے باسی اپنے ہی ملک میں عدم تحفظ کا شکار ہیں اور آج تک کسی حکمران نے اس اہم مسئلے کی طرف توجہ دینا گوارا نہیں کی۔

 

یہاں پر ایک بات کرنا بہت ضروری ہے اور وہ یہ کہ ہم نے اپنی پڑھائی کے عرصے میں کوئی ایک بھی سندھی لیکچرر یا پروفیسر نہیں دیکھا جس نے قوم پرستی کا مظاہرہ کیا ،بلکہ وہ اپنے صوبے کے طلبا کو ہمیشہ محنت کی تلقین کرتے اور بڑے صوبے کے تعلیمی نظام کی تعریف بھی کی۔ سندھ کے ٹیچرزکو ہم نے اپنی قوم کے بارے میں ہمیشہ فکر مند پایا۔اس وقت ہائیرایجوکیشن کمیشن کو چاہئیے کہ ملک کی تمام یونیورسٹیوں میں طلبا تنظیموں کی سرگرمیوں کو باریک بینی سے دیکھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہئیے کہ تمام صوبوں کی یونیورسٹیوں کی طلبا تنظیموں کے ممبران اور ذمہ داران کی سیاسی اور عسکری وابستگیوں کو کنٹرول کریں اور اگر کوئی بھی تنظیم ملک کے مفاد کے خلاف تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہےتواس کے خلاف خاطرخواہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔

 

 

(نوٹ:مندرجہ بالاتحریربلاگرکاذاتی نقطہ نظرہوسکتاہے،ادارہ کااس سے متفق ہوناضروری نہیں)