ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی 64300 بوریاں کھاد برآمد

ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی 64300 بوریاں کھاد برآمد

پشاور ( نیا ٹائم ) ضلعی انتظامیہ پشاور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سرگرم ہو گئی ۔ بدھائی کے علاقے میں گوداموں پر چھاپہ مار کر 63000 (ڈی اے پی) کھاد اور 1300 (یوریا) کھاد کی بوریاں  برآمدکر لیں ۔

 ڈپٹی کمشنر پشاور کیپٹن ( ر) خالد محمود کے مطابق کھاد کی بوریوں کو مارکیٹ میں قیمتیں بڑھانے کے لیے غیر قانونی طور پر ذخیرہ کیا گیا تھا۔صوبا ئی دارلحکومت پشاور میں ضلعی انتظامیہ پشاور نے محکمہ زراعت کے ہمراہ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بدھا ئی کے علاقے میں گوداموں سے ہزاروں کلو کھاد کی غیر قانونی طور پر ذخیرہ شدہ بوریوں کو برآمد کر لیا۔

ڈپٹی کمشنر پشاور کیپٹن (ر) خالد محمود کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر احتشام الحق کی نگرانی میں خصوصی ٹیم نے اسسٹنٹ کمشنر عمر اویس کیانی، اسسٹنٹ کمشنر عبید ڈوگر اور محکمہ زراعت کے افسران کے ہمراہ بدھائی کے علاقے میں چار گوداموں پر چھاپہ مارا۔ گوداموں میں غیر قانونی طور پر 63000 (ڈی اے پی) کھاد اور 1300 (یوریا) کھاد کی بوریوں کو ذخیرہ کیا گیا تھا۔

موقع پر موجود کھاد کی بوریوں کو سرکاری تحویل میں لیتے ہوئے غیر قانونی فرٹیلائزز کاروبار کے سرغنہ کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی۔ اس موقع پراسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر احتشام الحق نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ میں کھاد کا مصنوعی بحران پیدا کرنے اور قیمتیں بڑھانے کے لیے گوداموں میں غیر قانونی طور پر کھاد کو ذخیر ہ کیا گیا تھا۔

پولیس گروہ کے سرغنہ کی گرفتار ی کے لیے چھاپے مار رہی ہے اور جلد ہی اس کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کھاد کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر پشاور کیپٹن (ر) خالد محمود نے انتظامی افسران کو اپنے علاقوں میں گوداموں کا معائنہ کرنے کی ہدایت کی ہے اور ذخیر ہ اندوزی پر قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے۔

 

استاد کو گرفتار کرنے پر 2 پولیس اہلکار معطل