کیا اسٹیٹ بینک آئی ایم ایف کو بیچ دیا گیا

کیا اسٹیٹ بینک آئی ایم ایف کو بیچ دیا گیا

اسلام آباد (نیا ٹائم ویب ڈیسک): جعلی خبریں چلائی گئی ہیں کہ حکومت نے اسٹیٹ بینک آئی ایم ایف کے آگے  بیچ دیا، ان کو خبردار کیا جائے کہ مرکزی بینک اب بھی حکومت کے زیرِ کنٹرول ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق پیر کے روز قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ پیش کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر کا کہنا تھا کہ جعلی خبریں پھیلائی جارہی ہیں کہ حکومت کی جانب سے سٹیٹ بینک آئی ایم ایف کو بیچ دیا گیا ہے۔اب دستاویزات منظرِ عام پر آچکی ہیں ، جس میں تمام تر اختیارات حکومت کے پاس ہیں، یہ اشارہ دینا بالکل غلط ہے کہ آئی ایم ایف کو اسٹیٹ بینک کا مالک بنا دیا گیاہے۔"میں خود آئی ایم ایف کے لیے کام کرتا تھا،کیا کسی بھی بین الاقوامی ادارے کے لیے کام کرنا کہاں کا جرم ہے؟"پاکستان کی پوری تاریخ میں متعدد گورنرز نے سٹیٹ بینک اور آئی ایم ایف سمیت دیگر بین الاقوامی اداروں کے لیے کام کیا ہے۔

 

گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ میرے پاس کوئی دوسری نیشنلٹی نہیں ہے ،میں صرف پاکستانی ہوں اور میں کسی بھی دوسرے ملک کامستقل رہائشی نہیں ہوں۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیر خزانہ اور سینیٹر قیصر احمد شیخ آپس میں الجھ پڑے اور گرما گرمی رہی۔

 

شوکت ترین نے شیخ قیصر کومتوجہ  کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے انتہائی میٹھے طریقے سے جوتے مارے، میں بھی ایک سینیٹر ہوں ، سٹیٹ بینک پر پاکستانی حکومت کا کنٹرول ایسے ہی قائم رہے گا۔بورڈ آف ڈائریکٹرز کی نامزدگی اور بورڈ کی منظوری کا اختیار بھی حکومت کا ہی ہے۔علاوہ ازیں وزیر خزانہ شوک ترین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنوری کے آخری ہفتے میں عالمی مالیاتی ادارےکے پاس پھر جانے کی تیاری ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں بلز جلد ازجلد پارلیمنٹ سے منظور کرانے کی امید ہے۔انہوں نے کہا کہ قانونی بلز پر اعتراض کرنا محض اپوزیشن کا ہی کام ہے،اگر اپوزیشن اعتراضات نہیں اٹھائے گی تو یہ کام کون کرے گا۔شوکت ترین نے کہا کہ گورنر سٹیٹ بینک کی ملازمت کی مدت کے دورانیے پر عالمی مالیاتی ادارے سے بات چیت کی جائے گی۔وزیر خزانہ نے اشارہ دیا کہ گورنر اسٹیٹ بینک کی مدت ملازمت میں پانچ سال کی توسیع نہیں کی جائے گی۔ ترمیمی بل کے تحت ملازمت کی مدت 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کرنے کی تجویز ہے۔

 

پرانےکرنسی نوٹ کی تبدیلی کی ڈیڈلان میں اضافہ