ملک میں کھادکابحران شدت اختیارکرگیا،کسان رُل گئے

ملک میں کھادکابحران شدت اختیارکرگیا،کسان رُل گئے

میلسی(نیاٹائم)ملک میں کھاد کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے اور کسانوں کو اپنی فصلیں بچانا بھی مشکل  نظر آ رہی ہیں، چھوٹے کسانوں کے ساتھ ساتھ  بڑے کسان بھی لائنوں میں لگ کر صرف 2 سے 3 بوریاں ہی حاصل کرنے پر مجبورہیں۔

 

ملک کے دوسرے شہروں  کی طرح میلسی میں بھی کسان کھاد کے بحران کی وجہ سے پریشان ہیں اور انکو اپنی فصلوں کی فکر لاحق ہے۔تاہم حکومت کی ناقص پالیسی کی وجہ سے کسانوں کوکھاد ملنا محال ہوگئی ہے اور اسی کے پیش نظر  کھاد کی اس موجودہ سنگین صورتحال پر کسان اتحاد وہاڑی کے چاروں گروپس نے آپس میں متحد ہو کر کسانوں کے حقوق کیلئے جنگ لڑنے کیلئے کمر کس لی ہے۔

 

کسان اتحاد پنجاب کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد افتخار نے گورنمنٹ سے کھاد کی تقسیم کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ فرٹیلائزر کی تقسیم کے عمل میں کسان اتحاد کے نامزد نمائندے شامل کئے جائیں جن کے دستخط ہونا ضروری ہوں تا کہ تقسیم کا عمل میرٹ پر ہو۔ انہوں نے کہا کہ جو کسان زمین کی فرد حاصل نہیں کر سکتے ان کی تصدیق کسان اتحاد کے نمائندے کریں گے اور میرٹ پر تقسیم کروائیں گے اجلاس میں کسان اتحاد وہاڑی کے چوہدری انور علی، راءو طارق اشفاق، چوہدری خالد کھوکھر اور محمد خالد بھٹ گروپس کے مرکزی عہدیداروں نے شرکت کی اور حکومت کو اپنے مطالبات بارے آگاہ کیا۔

 

خیال رہے کہ ملک بھر میں کھاد کامصنوعی بحران پیدا کیا گیا ہے جس کے بعد کھاد بلیک میں فروخت کی جارہی ہے،کھاد کو ذخیرہ اندوزوں نے سٹاک کرنے کے بعد مہنگے داموں بیچنے کا منصوبہ بنارکھا ہے اور کچھ اس پر عمل پیرا بھی ہیں ۔دوسری جانب کھاد کی ہمسایہ ملکوں میں سمگلنگ بھی ایک اہم فیکٹر ہے جس کی وجہ سےیوریا کھاد سمیت دیگر کھادیں میسر نہیں آرہی ہیں اور ملک بھر کے کسان اپنی فصلوں کو لے کر پریشان ہیں اور حکومت سے فوری طور پراس مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔

 

خوشخبری،بانس کی کاشت زرِمبادلہ کمانے کا ذریعہ