پروین رحمان قتل، مجرمان کی سزا کیخلاف اپیلیں سماعت کیلئےمنظور

پروین رحمان قتل، مجرمان کی سزا کیخلاف اپیلیں سماعت کیلئےمنظور

کراچی(نیاٹائم )سندھ ہائیکورٹ نے پروین رحمان قتل کیس میں سزا کے خلاف مجرمان کی اپیلیں سماعت کے لئے منظور کرلیں اور پراسکیوٹر جنرل سندھ اور دیگر کو نوٹس بھی جاری کردیئے گئے ہیں۔

 

سندھ کی بڑی عدالت نے پروین رحمان قتل کیس میں مجرمان عمران سواتی اور رحیم سواتی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔مجرم کے وکیل نےعدالت میں بتایا کہ عمران سواتی کو صرف 7 برس کی سزا ہوئی ہے جو وہ پہلے ہی کاٹ چکا ہے جس پر جسٹس اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دئیے کہ اگر ایسا ہے تو جیل حکام ضابطے کی کارروائی خود بھی مکمل کرسکتےہیں۔

 

سندھ ہائیکورٹ نے اپیلیں سماعت کیلئے منظور کرلیں اور پراسکیوٹر جنرل سندھ اور دیگر کو نوٹسز بھی جاری کردئیے ہیں۔عدالت نے کیس کے پولیس پیپرز کی تیاری کا آرڈر دے دیا۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ملزموں کو سزا سنائی تھی۔اے ٹی سی نے سیاسی جماعت کےتین کارکنوں کو جرم ثابت ہونے پر مجموعی طور پر 57 برس 6 ماہ قید کی سزا سنائی تھی، مجرم احمد خان، امجد حسین اور ایاز سواتی کو 57 برس قید کی سزا دی گئی جب کہ مجرم رحیم سواتی کو 50 برس اور اس کے بیٹے عمران سواتی کو 7 سال 6 ماہ قید کا حکم سنایاگیاتھا۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ( جے آئی ٹی) کی رپورٹ کے مطابق اس ہائی پروفائل قتل میں سیاسی لوگ اور قبضہ مافیا ملوث ہے، کیس کا مرکزی ملزم رحیم سواتی ہے جسے واقعے کے تین سالوں بعد حراست میں لیا گیا تھا۔

 

خیال رہے کہ غریب اور پسماندہ علاقوں کی ترقی واسطے اپنی زندگی وقف کرنے والی پروین رحمٰن کو 13 مارچ 2013ء کو اورنگی ٹاؤن میں ہی فائرنگ کرکے اُس وقت قتل کیا گیا تھا جب وہ آفس سے اپنی رہائش گاہ جا رہی تھیں۔ اُن کے ڈرائیور نے فوری طور پر پروین رحمٰن کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا تھا لیکن اس حملے میں وہ جانبر نہ ہوپائیں۔ سپریم کورٹ کی طرف سے بھی قتل کیس کا از خود نوٹس لیا گیاتھا۔

 

نور مقدم قتل کیس میں ملزم کی درخواست پرفیصلہ محفوظ