’’دھوکے باز‘‘ انسانیت پردھبہ

’’دھوکے باز‘‘ انسانیت پردھبہ

 

پاکستان میں دھوکے باز لوگ اسلام کے نام پر بھی سادہ لوح عوام کو دھوکا دینے سے گریز نہیں کرتے ،چاہے وہ حج جیسے مقدس فریضے اور عُمرے کے نام پہ ہو یا پھر ایران اور عراق میں جانے والے عقیدت مندوں سے پیسے بٹورنے کے نام پہ ہو ۔ پچھلے دنوں ایک دوست نے ایک تحریر بھیجی جس میں ایک تحقیق کا حوالہ شامل تھا کہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں فروخت ہونے والی فارمی مرغی کس قدرانسانی صحت کےلیے نقصان دہ ہے بلکہ تحقیق میں برائلر مرغی کے اثرات کو ایک ایسے جانور سے تشبیہہ دی گئی تھی جس کا نام لینا بھی ہمارے مذہب اسلام میں مکروہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں دنیا کا ہر وہ دھندا جس کا وجود ہے سرِعام جاری ہے ۔ یہاں انسانیت کے دشمن اپنے ہم وطنوں کو حرام کھلانے سے بھی ذرا نہیں ہچکچاتے گدھے اور گھوڑے تک کھلا گئے ہیں پھر برائلرمُرغی تو حلال چیز ہے۔ بشرطیکہ زندہ حالت میں حلال کی جائے کیونکہ ہمارے ملک میں تو مُردہ کو بھی زندہ میں شامل کرکےبیچ دینے کاتاثرعام ہے۔

 

ہم دعوی تو سب مسلمان ہونے کاکرتے ہیں۔ لیکن عملی طورپر کام مسلمانوں والے تو دُور انسانوں والے بھی نہیں کرتے ۔ جعلی ادویات بنا کر لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنا ، دُودھ کو خالص بنانے کے لیے اس میں طرح طرح کی ملاوٹیں کرنا ، بڑے بڑے برانڈڈ مشروبات کی کاپی کرکے ان کے نام پر جعلی مشروبات بنانا اور لوگوں کو حلال کی بجائے حرام چیزیں کھلانا۔ اگریہ اعمال وافعال انسانیت دشمن کام ہیں تو پھر یہ کام کرنے والے اپنے آپکو مسلمان تصور بھی کیسے کرسکتے ہیں ؟ یہ سب ایسے کام ہیں جن میں براہ راست انسان کے متاثر ہونے کا خطرہ ہے یعنی کہ ان کاموں سےکسی بھی انسان کی جان جاسکتی ہے ۔ اوریہی چیز ہمارے مذہب اسلام میں منع کی گئی ہے اور ایک انسان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل قراردیا گیا ہے۔

 

پاکستان میں جہاں ایک طرف ہرکھانےوالےچیز کو خالص بنانے کے لیے طرح طرح کے منفی ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں، وہاں دوسری چیزوں جو کہ انسان اپنے لیے استعمال نہیں کرتا میں ملاوٹ کرنا تو پھر نعوذباللہ جائز ہی سمجھا جاتا ہوگا ۔ کیونکہ ہمارے ہاں ایک ہی چیز میں اتنی زیادہ ورائٹیاں دستیاب ہیں کہ بندہ چکرا جاتا ہے کہ اس میں سے اصلی کون سی ہے اور نقلی کونسی ۔ سونے پہ سُہاگہ یہ کہ مارکیٹ میں چائنا کی چیزوں کی بھرمار نے “ دو نمبر دھندہ “کرنے والوں کا کام مزید آسان کردیا ہے کیونکہ دو نمبر یا گھٹیا کوالٹی کی چیز کو چائنا کی پروڈکٹ قرار دے کر باآسانی فروخت کیا جا سکتا ہے۔

 

اوپر جس فارمی مُرغی کا ذکر کیا ہے وہ بذات خود تو مصنوعی طریقہ سے پیدا کی ہی جاتی ہے اورتو اور اُس کو کھِلائے جانے والی خوراک میں دُنیا جہان کی غلاظت شامل کرکے رہی سہی کسر بھی پوری کردی جاتی ہے۔ خیراس کاروبارکوتواب کاروبار ہی سمجھا جاتا ہے نہ کہ انسانیت کی خدمت ۔ اس کے علاوہ ہم روز مرہ استعمال کی اشیاء کا ذکر اگرشروع کردیں تو شاید ایک لمبی فہرست بن جائےجو کہ ہم لوگوں کی زندگی کا لازمی جزو ہیں ۔ آئے روز الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ایسے اسکینڈلز کو منظرِعام پر لاتا بھی رہتا ہے لیکن یہ سلسلہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا بلکہ یوں کہیں کہ یہ بڑھتاہی جارہاہے اور دونمبری کے نت نئے طریقے ایجاد ہو رہے ہیں۔

 

ہم لوگوں کا وطیرہ ہے کہ ہم ہربُرے کام کو امریکہ اور یہودیوں کی سازش قرار دے کر راہِ فرار اختیار کر لیتے ہیں اور خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں حالانکہ غیر مسلم ترقی یافتہ ممالک میں ہر چیز خالص اور ملاوٹ سے پاک میسر ہوتی ہے ، کیا پاکستانی عوام کو گدھے کھلانے میں بھی امریکہ ملوث ہے ؟ کیا پاکستان کے غریب اور بے روزگارنوجوانوں کو حصول رزق کی خاطربیرونِ ملک بھیجنے کا جھانسہ غیر ملکی ایجنٹ آ کر دیتے ہیں ؟ کیا لوگوں کی عمر بھرجمع کردہ خون پسینے کی کمائی یہودی ایجنٹ حج اور عمرے کے نام پہ لُوٹ لیتے ہیں ؟ یقیناً ان تمام گھٹیا کاموں میں ہمارے اپنے لوگ ہی ملوث ہوتے ہیں جو کہ سادہ لوح لوگوں کو اپنے جال میں پھنسا کردھوکے کا شکار کرتے ہیں۔

 

اس لیے “ دھوکے باز “ کو خود کو مسلمان کہلانے کا حق حاصل نہیں ہے ، چاہے وہ ہر سال حج کرے ، زکوٰة دے ، نمازیں پڑھے ، اور غریبوں کی مدد بھی کرے تو بھی اُس کی عبادات شاید قبول نہ ہوں ۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر چیز کو اپنے مطلب کے لیے استعمال کیا جاتا ہے چاہے وہ مذہب ہی کیوں نہ ہو ۔ ہر بُرا کام کر کے مذہب کی آڑ لینا دھوکے باز کی سب سے بڑی علامت ہے ۔ جو کہ یقیناً اپنے آپ کو جھوٹی تسلی اور لوگوں کو دِکھاوے کے لیے ہوتی ہے ۔ اسے ہم دُوسرے الفاظ میں قول و فعل کا تضاد بھی کہہ سکتے ہیں۔

 

یہ بات بھی روز روشن کی طرح ایک حقیقت ہے کہ جب کسی معاشرے میں انصاف کی فراہمی میں کوتاہی ، عوام کے بنیادی حقوق کی عدم دستیابی اور غریبوں کا استحصال کیاجائے تو پھر معاشرے میں طرح طرح کی بُرائیاں جنم لیتی ہیں اور ان بُرائیوں کو بنیادی طور پر ہم انتقامی کارروائی بھی تصّور کر لیں تو کوئی حرج نہ ہوگا ۔ ظاہر ہے جب غریب “ غریب تر “ اور امیر “ امیر تر “ ہوتا چلا جائے گا تو پھرمعاشرے میں احساس کمتری اور رات و رات امیر ہونے کی خواہش انسانوں کو دھوکے بازی اور دو نمبری پر مجبورکرنےمیں کوئی کسرروانہیں رکھے گی ۔ ان بُرائیوں میں بلاتخصیص تمام طبقات ملوث ہیں۔

 

اس وقت ہمارے مُلک کا یہ حال ہے کہ اصلی اور ایک نمبر چیز کا ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے کیونکہ ہر چھوٹا بڑا صرف اور صرف ذاتی مفاد کے لیے کام کر رہا ہے چاہے وہ سیاستدان ہو ، سرکاری افسر ہو یا پھر کسی چھوٹی سی دُکان والا ہو۔ کسی نے بھی دوسرے کا بھَلا یا بُرا نہیں سوچنا بلکہ صرف اورصرف اپنےمفاد کو ہی ترجیع دینی ہے ۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ دھوکے باز کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی قومیت ہوتی ہے۔ کیونکہ اُس کا مذہب اور قوم صرف اور صرف پیسہ ہوتا ہے ۔ دھوکے باز نہ مسلمان ہوتا ہے ، نہ ہندو ، نہ عیسائی اور نہ ہی یہودی ہوتا ہے۔

 

 

(نوٹ:مندرجہ بالاتحریربلاگرکاذاتی نقطہ نظرہے،ادارہ کااس سےمتفق ہوناضروری نہیں)