نیا سال ، ویلکم ٹُو پاکستان

نیا سال ، ویلکم ٹُو پاکستان

 

پاکستان میں نیاسال صرف سال کے ہندسے ہی بدلتا ہے ، حالات نہیں بدلتے ، بلکہ لوگ پچھلے ان دنوں کو آج کل سے بہتر قرار دے رہے ہوتے ہیں ۔ سب کچھ بدلتا ہے ، حکومتیں بدلتی ہیں ، وزیراعظم بدلتا ہے ، آرمی چیف بدلتا ہے ، چیف جسٹس بدلتا ہے اور کیلنڈر تو بدلتا ہی بدلتا ہے ،بس نہیں بدلتا تو ہمارا رویہ نہیں بدلتا ، ہماری ترجیہات نہیں بدلتیں ، ہمارے مفادات نہیں بدلتے ،ہمارے جھگڑے نہیں بدلتے ، ہماری بحث نہیں بدلتی ، ہمارے جھوٹ نہیں بدلتےالغرض ہمارے معاشرے کی بُرائیاں جُوں کی تُوں ہی رہتی ہیں اور نہ جانے صدیوں تک ایسے ہی چلتا رہے ۔ ہم لوگوں نے کبھی بھی اپنے آپ کو سُدھارنے کی کوشش تک نہیں کی کیونکہ سُدھارنے کی کوشش سے ڈر یہ ہوتا ہے کہ کہیں سب کچھ ٹھیک ہی نہ ہوجائے جس کی ہمیں قطعی کوئی خواہش نہیں ہوتی ۔

 

 

نئے سال میں بھی پچھلے سالوں کی طرح غریب کھانے سے محروم رہیں گے ، غریب کے بچے سکول نہیں جا سکیں گے ، مجبور مائیں سڑکوں پر بچوں کو جنم دیتی رہیں گی ، بھوک اور افلاس کے مارے نوجوان لوگ سیاستدانوں کے جلسوں میں ایک دن کے کھانے کی خاطر نعرے لگاتے رہیں گے ، پڑھے لکھے نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لیے دفتروں کے چکر لگاتے رہیں گے ، وڈیرے پنچائتوں کے ذریعے انصاف کے نام پر نا انصافی کا سلسلہ جاری رکھیں گے ، جعلی پیر اور جعلی ڈاکٹر اپنا دھندہ عروج پر رکھیں گے ، ملاوٹ کرنے والے دھڑا دھڑ ملاوٹ شدہ چیزیں بنا بنا کر لوگوں کو کھلاتے رہیں گے ،

 

 

مذکورہ بالا گنوائی گئی سب خامیاں ہماری اپنی پیدہ کردہ ہیں کیونکہ ہم نے کبھی بھی بحیثیت قوم کوئی کام نہیں کیا بلکہ ہر کوئی اپنے ذاتی مفاد کومدنظر رکھ کر ہی ہرکام کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے ، ملکی مفاد کا سوچنا ہمیشہ ہم نے دوسروں پر ڈالا ہوا ہے ، جب تک ہر اک فرد اپنا مثبت کردارادا نہیں کرتا سالوں کے بدل جانے سے کچھ نہیں بدلنے والا ۔ چاہے سیاستدان ہوں ، وکیل ہوں ، جج ہوں ،بیوروکریٹ ہوں ، پولیس آفیسر ہوں ، پاک فوج کے جوان و آفیسر ہوں ، ڈاکٹر ہوں ، انجینئر ہوں ، یا پھر کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد ہوں، جب تک سب مل کر اپنے وطن کا احساس دل میں نہیں جگائیں گے تب تک ہمارا ملک کبھی بھی ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل نہیں ہو سکتا ۔

 

 

مثبت اور تعمیری سوچ سےدُنیا بھی فتح ہوسکتی ہے،پھر ہمارے مسائل کیا چیز ہیں۔ بات صرف نیت اور کوشش کی ہے۔ اگر ہم اپنے ملک کے بارے میں چند بنیادی باتوں کا جائزہ لیں تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہ ہو گا کہ ہمیں اس وقت کہاں کھڑاہونے چاہیےتھا اور ہمارا ابھی اصل مقام ہےکیا ؟ ہمارا ملک آبادی کےلحاظ سےدُنیا کا چھٹا بڑاملک ہے۔ دنیا کی ساتویں جبکہ واحد اسلامی ایٹمی پاور ، دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ، دنیا کے تمام موسم رکھنے والا ملک ، اور دنیا میں سب سے زیادہ ڈاکٹر اور انجینئرزتیارکرنےوالے ممالک میں ساتوں نمبر پاکستان کا ہے ۔ تمام تر فصلیں اور پھل پاکستان برآمد کرتا ہے ، پچاس فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

 

 

غرض اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے کوئی ایسی نعمت نہیں جو کہ پاکستان کے پاس نہ ہو مگر پھر بھی ہمارا سفر پستی کی جانب جا رہا ہے ، وجہ کیا ہے ؟ میرے خیال میں سب سے بڑی وجہ ہی ہم لوگوں کے اپنے رویے ہیں ، جب تک ہم اپنے رویے نہیں بدلیں گے ہمارے حالات بدلنے والے نہیں ۔ سب سے پہلے ہمیں قومیت ، مسلک ، ذات پات ، صوبائیت اور برادری ازم سے نکلنے کی ضرورت ہے ۔ قومیں ان تمام برائیوں سےتباہی کاشکار ہوتی ہیں ناں کہ ترقی یافتہ بنتی ہیں ۔

 

 

ہم لوگ ہر سال آخری مہینے میں نئے سال کی آمد پر خودساختہ آس اورامید لگائے رکھتے ہیں کہ شاید نئے سال کی برکت سے ہی ہمارا ملک صحیح ڈگر پر چل پڑے۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا ، بلکہ مایوسی ہے کہ آئے روز بڑھتی ہی جا رہی ہے ، جو لوگ مشرقی پاکستان کا سانحہ دیکھ چکے ہیں وہ اس خوف میں مبتلا ہیں کہ خدانخواستہ کوئی اور ایسا سانحہ رُونما نہ ہو جائے ۔ کیونکہ ہمارا دشمن یہ جان چکا ہے کہ وہ براہ راست جنگ کےذریعے پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑسکتا بلکہ اندرونی طور پر ہمیں کمزور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور دشمنوں کی ان کوششوں میں ہمارے اپنے لوگ بھی شامل ہیں۔ جن کا مقصد صرف ذاتی مفاد ہے۔ دشمن کبھی شیعہ سُنی فسادات کی کوشش کرتا ہے تو کبھی عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر حملے کے ذریعے غیر مسلموں کے دلوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے ، کبھی دشمن ہمیں صوبائی تعصب کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کرتا ہے تو کبھی عوام کو آپس میں لڑوانے کی سازش کرتا ہے ۔

 

 

ہمارے پیارے وطن میں سال کے بدلنے سے قومی اداروں کے آپس میں تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ، کبھی حکومت اور عدلیہ کے تناؤ کی خبریں تو کبھی حکومت اور فوج کے درمیان ایک پیج پر نہ ہونے کی خبریں تقریباً سال کے بارہ مہینے ہی گردش کرتی رہتی ہیں ۔ کبھی عدلیہ کو اپنی صفائی پیش کرنی پڑتی ہے تو کبھی فوج اور حکومت کو اپنی صفائیاں بیان کرنے لیے مشترکہ پریس کانفرنسز کا انتظام کرنا پڑتا ہے ۔ پاکستان میں عام عوام کے مسائل اور ہیں اور ملک چلانے والوں کے مسائل اور ہیں ، عوام کو زندہ رہنے کے لالے پڑے ہوتے ہیں جبکہ سیاستدانوں کو حکومت کی مدت پوری کرنا سب سے بڑا مسئلہ لگتا ہے۔

 

 

مُلک چلانے والوں کو عام عوام کی فکر نہیں جبکہ عام عوام کو اپنے جھمیلوں سے فرصت نہیں ، سیاستدان کُرسی کی فکر میں مُبتلا ہیں تو سرکاری افسران اور بیوروکریٹ سیاستدانوں کو خوش کرنے میں مصروف ہیں ۔ یہ سلسلہ پچھلے ستر سالوں سے چل رہا ہے ، ہر نئے سال کی آمد پرتوپوں کی سلامی اور آتش بازی کے سوا کچھ نہیں بدلتا ۔ بجائے اس کے کہ ہم لوگ سال کے آخر میں بیتے سال کی غلطیوں اور خامیوں کی نشاندہی کریں ہم لوگ سال کی آخری رات کو ہیپی نیو ائیر نائٹ کہہ کر مدر پدر آزادی سمجھ بیٹھتے ہیں ۔

 

(نوٹ:مندرجہ  بالاتحریربلاگرکاذاتی نقطہ نظرہے،ادارہ کااس سے متفق ہوناضروری نہیں)