بھارت: اقلیتوں کی قابل رحم حالت زار

بھارت: اقلیتوں کی قابل رحم حالت زار

 

 

تحریک پاکستان کی ابتداء سےہی قائد اعظم اوران کےرفقاء کوخود کچھ مسلمانوں بلکہ علماء کی نا صرف سازشوں بلکہ کھلم کھلا مخالفت کا سامنا رہا۔ جنہوں نے قیام پاکستان کی شدید انداز میں مخالفت کی،اس ضمن میں ہندوؤں اورتاج برطانیہ کےزرخرید علماء نےفتوے تک دیے کہ مسلمانوں کو ہندوؤں اور دیگر مذاہب کےساتھ مل جل کررہنےمیں کوئی مسئلہ نہیں اور یہ کہ مسلمان مکمل آزاد ہیں ۔ان پر کسی سماجی معاشرتی یا مذہبی عمل کی ادائیگی کےسلسلے میں کوئی قدغن نہیں۔ لہٰذا الگ اسلامی مملکت کی جدوجہد قطعی غیرضروری اور ناجائز ہے۔اس طرح تقسیم پاکستان کےموقع پربہت سارے عاقبت نا اندیش مسلمان خود فریبی کا شکارہوکربھارت میں ہی رہ گئے۔اس موقع پر قائد اعظم نےفرمایاتھاکہ ان لوگوں کوایک دن اپنےفیصلے پرشدید پچھتاوہ ہوگا۔

 

آج بھارتی مسلمان خود کواس مقام پربچشم حیراں و پریشاں وپشیماں دیکھ رہے ہیں۔اب سوائےاپنےفیصلےپرماتم کناں ہونےکےان کےپاس کوئی انتخاب نہیں رہا۔مودی کےاقتدارمیں آنےاور بالخصوص پچھلے چند ماہ سےجس تیزی سےبھارتی مسلمانوں پرظلم وزیادتی کا سلسلہ جاری ہےاس سے اقوام عالم کی چشم پوشی بالخصوص او آئی سی اور مسلم امہ کی مجرمانہ خاموشی اندرون خود عظیم جرم ہے۔

 

پچھلے کئی ماہ سےبھارت کی متعدد ریاستوں میں مساجد کوشہیدکیاگیا۔ کئی مسلمانوں کو ہندو انتہا پسند گروپوں نےقتل کیا۔ لیکن بی جے پی کی حکومت کی آشیرباد حاصل ہونےکی وجہ سےکسی ایک فرد یا گروہ کےخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

 

مسلمان توایک طرف انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھوں کوئی اقلیت محفوظ نہیں،ایک ممتازبھارتی جریدے "ڈکن ہیرالڈ" کے مطابق عیسائیوں کی ایک چرچ میں عبادت کے دوران انتہا پسند ہندوؤں کےایک گروہ نے ان پردھاوا بول کر پاسٹروں اور دیگر شرکاء پر بد ترین تشدد کیا۔ عورتوں کوبالوں سےپکڑکرگھسیٹا اورکرسیوں کےنیچےچھپےبچوں کےسامنےانہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔اطلاع کےبعد پولیس موقع پر پہنچی لیکن حملہ آوروں میں سےکسی کےخلاف کارروائی کرنے کی بجائے چرچ کے پادریوں اور عبادت میں مصروف دیگر افراد کولےجاکرجیل میں ڈال دیاگیا۔

 

بھارت میں اقلیتوں کےخلاف حال ہی میں منظورکیےگئےمذہب تبدیلی کےقاانون کی خلاف ورزی کامقدمہ درج کردیاگیا۔اس حالیہ قانون کی منظوری کےبعد بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کوتقویت ملنےسےاقلیتوں کےخلاف ظلم وزیادتی کے درجنوں واقعات رونما ہورہے ہیں۔

 

نئی دہلی کےجدید شہرگورو گرام میں 5لاکھ سےزیادہ مسلمان آبادہیں۔ جن کےلئےصرف 15 مساجد ہیں،ان میں سے اکثر چھوٹی ہیں۔ مسلمان ہفتےبعد نمازجمعہ کےلئےتعداد زیادہ ہونےکی وجہ سےمسجد کےباہر کھلی جگہوں پرنمازاداکرنےکےلئےتھوڑی دیرکےلئےصفیں بنالیتے تھے۔ اب پورے بھارت اورباالخصوص دہلی میں آر ایس ایس اور بی جے پی کےغنڈوں نے مسلمانوں کے خلاف محاذ کھڑا کررکھا ہے اور جہاں جہاں کھلی جگہوں یا سڑکوں پرمسلمان نمازاداکرتےتھےوہاں وہاں گائےکاگوبرپھینک دیاجاتاہے۔

 

متعدد مقامات پر ہندو انتہا پسند نہتے مسلمانوں کو گھیرے میں لےکر مارپیٹ کرکے "جے ماتا دی" جے شری رام"اور "بھارت ماتا کی جے" کےنعرے لگانےپرمجبورکرتےہیں۔اس وقت دہلی میں مسلمانوں کےلئےنمازجمعہ کی ادائیگی کےلئےصرف 6 مقامات موجود ہیں۔

 

مودی ہندو انتہا پسند اور مسلم مخالف آر ایس ایس کا تاحیات رکن ہے۔ جس پر 2002 کے دوران گجرات میں بطور وزیر اعلی ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کروانے پرامریکہ میں داخلےپرکچھ عرصہ پابندی لگادی گئی تھی ۔اس کے 2014 سے اقتدار میں آنے کے بعد ہندوؤں کےہاتھوں مسلمانوں کی قتل وغارت گری میں شدت آگئی ہےاور ناقدین کی رائے ہےکہ مودی کےہندوستان میں مسلمانوں کی کوئی جگہ نہیں۔

 

گذشتہ روز ایک تقریب میں ایک ہندوانتہاپسند لیڈرمہاویربھاردواج کا کہنا تھاکہ مسلمان ہندو مذہب اپنالیں صرف اسی سےان کا عبادت کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔دوسری صورت میں مسلمان بھارت سےپاکستان چلےجائیں۔

 

اسی ہفتے ہندو انتہا پسندوں کی ایک تقریب کی ویڈیو منظرعام پرآئی جس میں ہندو لیڈرہندوؤں کومہنگےہتھیارخریدنےاورمسلمانوں کاقتل عام کرنےپرزوردیتےرہے۔بھارت کی موجودہ صورتحال پریقینآوہ لوگ جو قیام پاکستان کےمخالف تھے،آج آزادی کی نعمت کی اہمیت کو بہتر طورپرسمجھ پارہےہوںگے،علاوہ ازیں عالمی حقوق انسانی کی تنظیموں کوبھی مسلمانوں کےمتعلق متعصب رویے کو ترک کرتے ہوئے بھارتی مسلمانوں کےحقوق کےلئےکام کرنےکی ضرورت ہے۔

 

 

(نوٹ:مندرجہ بالاتحریربلاگرکاذاتی نقطہ نظرہے،ادارہ کااس سےمتفق ہوناضروری نہیں)