بلدیاتی الیکشن : پی ٹی آئی کی ناکامی

بلدیاتی الیکشن : پی ٹی آئی کی ناکامی



خیبرپختونخوا میں 19 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا۔ پہلےمرحلےمیں خیبرپختونخوا کے 17 اضلاع میں 64 نشستوں پر الیکشن ہوئے جبکہ دوسرے مرحلے میں 18 اضلاع میں الیکشن ہوں گے۔ اب تک 64 میں سے 55 نشستوں کے نتائج مکمل موصول ہوچکے ہیں۔ جن میں جمعیت علماء اسلام ف 19 نشستوں سےلیڈ کررہی ہے جبکہ پی ٹی آئی 14 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔


خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی یہ دوسری مرتبہ بنے والی حکومت ہے۔ پی ٹی آئی نے 2018 کےالیکشن میں دو تہائی سے زیادہ اکثریت حاصل کی تھی۔ تیسرے نمبرپرآزاد امیدوار ہیں جہنوں نے 8 نشستوں پر الیکشن جیتےہیں۔ یہ تمام آزاد امیدوار پی ٹی آئی کےممبرہیں لیکن انہوں نے پارٹی سے ٹکٹ نہ ملنے پر آزادحیثیت سے الیکشن میں حصہ لے کرکامیابی حاصل کی۔


مبینہ طورپرکامیاب ہونے والےآزادممبروہ ہیں جنہیں پی ٹی آئی رہنماوں نے ٹکٹ نہیں دی بلکہ ان کے مقابلے میں اپنے بھائی چچا اور کزنز کو ان نشستوں پر ٹکٹیں دیں۔ ٹکٹوں کی تقسیم میں اقربا پروری کانتیجہ یہ نکلا کہ کارکن پارٹی قیادت سےناراض ہوگئے اور انہوں نے ان آزاد امیدواروں کی حمایت کی جوحقیقی طورپر پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے اہل تھے۔


اے این پی نے 7 نشستوں پر الیکشن جیتے ہیں۔حالانکہ اے این پی خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کی ایک نشست جیتنےوالی جماعت تھی۔ دوسری طرف ن لیگ جو کہ پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے،اس نے صرف تین نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ ن لیگ نے بہت ساری نشستوں پرجمعیت علماء اسلام ف کی حمایت کی تھی۔


نون لیگ نے جن حلقوں میں جے یوآئی ف کی حمایت کی عام تاثریہ ہےکہ وہ ان حلقوں میں کمزور تھی ۔ دوسرے مرحلے میں ہونے والے الیکشن جو ہزارہ اور مالاکنڈ میں ہوں گے وہاں جمعیت علماء اسلام ف سیاسی طور پر کمزورقراردی جارہی ہے،وہاں نون لیگ پارٹی پوزیشن کے اعتبارسےمضبوط سیاسی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے۔امکان ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت ان حلقوں میں مسلم لیگ ن کی حمایت کرے گی۔


پیپلزپارٹی جوآئندہ الیکشن میں پورے ملک میں کامیابی کے دعوے کرنے میں پیش پیش ہے وہ خیبرپختونخواہ میں ہونےوالے پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں صرف ایک نشست حاصل کرسکی۔پیپلزپارٹی کی کارکردگی سے تاثرابھررہاہےکہ بی بی شہید کے بعد آصف زرداری کی ناکام پالیسی کی وجہ سے وفاق کی بڑی جماعت اب سمٹ کر ایک صوبے کی جماعت بن گئی ہے۔جو پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ انہیں اپنی پالیسی پرنظرثانی کرنا ہوگی۔ اب کوئی بے نظیر شہید نہیں،جن کی شہادت پرسیاست کرتے ہوئے پی پی پی اقتدار حاصل کرسکے۔


خیبرپختونخوا کے پانچ بڑے اضلاع میں میئر شپ کےالیکشن ہوئے۔ جن میں مردان ،پشاور، بنوں، کوہاٹ اور ڈی آئی خان شامل ہیں۔ ڈی آئی خان میں اے این پی کےامیدوار قتل ہوگئےتھے جس کے باعث الیکشن ملتوی ہوگیا۔ پشاور، بنوں اور کوہاٹ میں جمعیت علماء اسلام ف نے میئرکی نشستوں پرکامیابی حاصل کی۔


پی ٹی آئی جو کہ صوبے کی سب سے بڑی جماعت سمجھی جاتی ہے وہ ایک بھی میئرکی نشست نہیں جیت سکی ۔ جس کی وجہ پی ٹی آئی کا ووٹرناراض تھااورووٹ ڈالنےنہیں نکلا۔ پی ٹی آئی کے ووٹر نےالیکشن میں دلچسپی نہیں لی۔ جب کہ مولانا فضل الرحمن اور ان کے ووٹروں نے بہت محنت کی اور اپنے ووٹرزکو نکالنےمیں کامیاب ہوئے جس کے نتیجے میں وہ الیکشن جیت گئے۔


پی ٹی آئی کو شکست کیوں ہوئی ؟ کچھ وزیرکہہ رہے ہیں کہ مہنگائی کی وجہ سے انہیں مارپڑی ہے، حالانکہ مہنگائی توعالمی مسئلہ ہے ۔ ایک تاثریہ بھی ہے کہ بیڈ گورننس اور احتساب کا نعرہ تولگایاتھا مگر کوئی بھی کیس اپنے منطقی انجام کو نہ پہنچا ، سابقہ دور اور موجودہ دور میں جن لوگوں نے کرپشن کی ان کو بھی کیفرکردارتک نہیں پہنچایا گیا ۔


موجودہ حکومت میں رنگ روڈ کا میگا سکینڈل ، چینی سکینڈل، پٹرول کا سکینڈل ،ادویات کا سکینڈل اور گیس کا سکینڈل ان سب میں عوام نے کسی کو بھی منطقی انجام تک پہنچتے نہیں دیکھا، عوام جس تبدیلی کی امیدکررہےتھے ان کو مایوسی ہوئی ۔وزرا کی کارکردگی،بیڈگورننس الیکشن ہارنے کی سب سے بڑی وجہ بنی۔بلدیاتی الیکشن میں ٹکٹوں کی تقسیم کےدوران میرٹ کونظراندازکیاگیاکہ انتہائی غیر منصفانہ عمل تھا۔ نا اہل لوگوں کو الیکشن میں ٹکٹ دی گئی جس کانتیجہ ناکامی کی شکل میں سامنے آیا۔


سیاسی پنڈت کہتے ہیں کہ مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے مگر بیڈ گورننس صوبائی مسئلہ ہے ۔وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمود خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار یہ دونوں عمران خان کی ذاتی پسند ہیں۔ جس پر پارٹی کےاندرسےشدیدمخالفت کی گی۔ آج تک محمود خان اور عثمان بزدار دونوں پی ٹی آئی ورکرز کو متاثر نہ کر سکے، پی ٹی آئی کو گراس روٹ تک نہیں لے جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کی صوبائی قیادت اورحکومت میں کوئی تال میل قائم نہ کر سکے۔


اگرعمران خان اپنی پارٹی میں ان دونوں وزرائےاعلی کی قیادت سے متعلق رائے لیں تو 80 فیصد پارٹی قیادت ان دونوں وزرائے اعلی کی شدید مخالفت کریں گے ۔یہ بات عمران خان جانتے ہیں مگر وہ اپنی ضد اور انا کی وجہ سے ان کو تبدیل کرنےکو تیار نہیں ہیں۔ وہ پارٹی جس کو بنانے کے لیے 22 سال جدوجہد کی اس کو دونوں وزرائےاعلی محمود خان اور عثمان بزدار کے رحم وکرم پر چھوڑدیا ہے۔


پی ٹی آئی کی کوئی اپوزیشن نہیں ۔پی ٹی آئی اپنی اپوزیشن خود آپ ہے۔ پنجاب میں کنٹونمنٹ کے انتخابات ہوئے۔ کنٹونمنٹ کو پی ٹی آئی کا گڑھ کہہ جاتا ہے۔لیکن اس گڑھ میں بھی اسے بری طرح سےشکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پنجاب میں بلدیاتی الیکشن اگرعثمان بزدار کی حکومت میں منعقد ہوئے اورخیبرپختونخواہ کی طرح اپنے پسندیدہ افراد کو ٹکٹوں سے نوازا گیا تو پھر پنجاب میں ن لیگ پی ٹی آئی کو عبرتناک شکست دے گی اور بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کی داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں۔

 

(نوٹ:مندرجہ بالاتحریربلاگرکاذاتی نقطہ نظرہے،ادارہ کااس سے متفق ہوناضروری نہیں)

بلدیاتی الیکشن : پی ٹی آئی کی ناکامی