سابق وزیراعظم شاہد خاقان کا حکومت اور نیب کو چیلنج

سابق وزیراعظم شاہد خاقان کا حکومت اور نیب کو چیلنج

اسلام آباد(نیاٹائم):لیگی  رہنما ءاور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نیب اور حکومت کو چیلنج کردیاہے۔

 

وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے بات چیت  کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ چیئرمین نیب بتائیں  آج تک کتنے سیاستدانوں سے ریکوری ہوئی ہے؟ حکومت کو ساڑھے تین سال ہوگئے۔ ہمت ہے تو اب کرپشن کے کیس بھجوائے۔ حکومت چاہتی ہے کہ ڈیلی ویجز پر یہی نیب کا چیئرمین لگارہے۔

 

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ایک 22 ویں گریڈ کے افسر اس لیے پیشیاں بھگت رہے ہیں کہ وہ کسی کے خلاف کیوں نہیں بولتے ۔ موجودہ حکومت  اور نیب کو اوپن چیلنج ہے کہ مقدمے بنائیں اور ثبوت سامنے لے کر آئیں۔ جب ٹائم  آئے گا تو ہم درخواست گزار بنیں گے۔ ہم پوچھیں گے کہ چینی، دوائیوں، ایل این جی اور فرنس آئل کے ڈاکے کس نے ڈالے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم پوچھیں گے کہ کیبنٹ میں جو ڈاکو بیٹھے ہیں یہ کہاں سے آئے تھے اور انکو کون لایاتھا۔

 

 

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج غریب پس کیوں رہے ہیں؟ کیا جواب یہ ہے کہ امریکا میں مہنگائی ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے بلدیاتی الیکشن میں حکومت کو شکست فاش دی ہے۔ وہاں پاکستان تحریک انصاف کی حالت سب کے سامنے عیاں ہے۔

 

شاہد خاقان نے کہا کہ ملک میں ہر چیز بند ہو رہی ہے۔ اب نہ بجلی ہے نہ گیس ہے اور توانائی کے شعبے میں کرپشن ہی کرپشن ہے۔  آئل ریفائنری بند ہوگئی ہے۔چیئرمین نیب چپ  بیٹھا ہے۔ ڈیلی ویجر چیئرمین نیب اب منتوں پر پہنچ چکے ہیں۔ چیئرمین نیب کی کرسیوں سے چمٹنے کی عادت نہیں گئی اور چیئرمین نیب کا بھی جلد احتساب ہوگا۔

 

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما شاہدخاقان عباسی کی جانب سے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور آئے روز اپنی نیب میں ہونے والی پیشی کے بعد نیب چیئرمین پر بھی تنقید کے نشتر برساتے ہیں۔

 

پاکستان پیپلز پارٹی نے نتائج کی تاخیر پر تحقیقات کا مطالبہ کر دیا