امریکا میں اومی کرون ویرینٹ سے پہلی ہلاکت رپورٹ

امریکا میں اومی کرون ویرینٹ سے پہلی ہلاکت رپورٹ

امریکا(نیاٹائم ویب ڈیسک)عالمی وباء کورونا کے نئے ویرینٹ اومی کرون کے باعث امریکا میں پہلی ہلاکت رپورٹ ہو گئی ہے۔

 

بین لاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق امریکا کی ریاست ٹیکساس میں پیر کے روز کورونا کے نئے ویرینٹ اومی کرون سے پہلی ہلاکت رپورٹ ہوئی اور مریض کے غیر ویکسین شدہ ہونے کی کنفرمیشن کی گئی ہے۔غیرملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق امریکی سینٹر فار ڈیزز کنٹرول نے اومی کرون سے ہونے والی ہلاکت پر فوری طور پر کوئی بیان نہیں دیا۔

 

غیرملکی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ اومی کرون سے ہلاک ہونے والے مریض کی عمر 50 سے 60 سال کے درمیان تھی اور وہ ویکسین نہ لگوانے کےباعث سے کورونا کی وجہ سے انتہائی پیچیدہ ہیلتھ کے مسائل سے دوچار تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے کورونا میں مبتلا ہونے والے 73 فیصد سے زائد افراد اومی کرون کاشکارہوئے۔

 

دوسری طرف اومی کرون کے تیزی سے پھیلاؤ پر سرمایہ کاروں میں بھی خوف کی لہر ہے اور عالمی منڈیوں میں گراوٹ ہے اور تیل کی قیمتیں بھی گرگئی ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل اومی کرون ویرینٹ سےپہلی ہلاکت برطانیہ میں رپورٹ ہوئی تھی اور برطانیہ میں بھی مسلسل پھیلاؤکے بعد نئی پابندیاں لگانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

 

یاد رہے کہ کورونا وائرس کی جنوبی افریقہ کی قسم اومی کرون کا پھیلاؤ بہت تیزی سے ہورہا ہے جبکہ دوسری جانب وزیراعظم بورس جانسن نے مزید پابندیوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے ۔امریکا میں بڑھتے ہوئے اومی کرون کے کیسز کی وجہ سے اسرائیل نے بھی امریکا پر سفری پابندیاں عائد کردی تھیں تاہم آج امریکا میں اومی کرون سے پہلی ہلاکت بھی سامنے آچکی ہے۔

 

اس سے قبل اومی کرون کے پیش نظر فرانسیسی صدر نے بھی خبردار کیا تھا اور کہا تھا کہ ہوسکتا ہے 2022میں اومی کرون کا حملہ شدید ہو۔دوسری جانب جرمنی نے فرانس اورڈنمارک کو ہائی رسک ممالک قرار دیتے ہوئے ان ممالک سے آنے والے افراد پر قرنطینہ کی شرط عائد کر رکھی ہے۔

 

برطانیہ میں مزید پابندیاں لگنے کا خدشہ