برطانیہ میں مزید پابندیاں لگنے کا خدشہ

برطانیہ میں مزید پابندیاں لگنے کا خدشہ

لندن(نیاٹائم ویب ڈیسک)برطانیہ میں کورونا کے مسلسل بڑھتے کیسز کی وجہ سے مزید پابندیاں لگنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔برطانیہ میں کورونا کے 24 گھنٹوں میں مزید 91 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 44 افراد جاں بحق بھی ہو گئے۔

 

انٹرنیشنل میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں کورونا کے وار مسلسل جاری ہیں۔ پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران مزید 91 ہزار 743 کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ اومی کرون کیسز کی مجموعی تعداد 45 ہزار 145 تک پہنچ گئی ہے۔

 

برطانوی پرائم منسٹر بورس جانسن کا کہنا ہے کہ اومی کرون کی وجہ سے کافی مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔کسی بھی پابندی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔بورس جانسن نے کہا کہ ضرورت پڑی توعوام کےتحفظ کے لئےمزید پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔برٹش پرائم منسٹر نے عوام سے درخواست کی کہ وہ جلد از جلد کورونا ویکسین کی بوسٹر ڈوزبھی لگوالیں۔


خیال رہے کہ انگلینڈ میں 12 سے15 سال کےبچے کو ویکسین کی دوسری ڈوز لگوانے کے لیے اہل قرار دیاجاچکاہے۔دوسری طرف رپورٹس ہیں کہ ملکہ برطانیہ کرسمس ونڈ سرکاسل میں ہی رہیں گی۔وباء کی وجہ سے پچھلے ہفتے ملکہ نے کرسمس سے پہلے خاندان کےاعزاز میں روایتی لنچ بھی ملتوی کردیاتھا۔

 

واضح رہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کا پھیلاؤ بہت تیزی سے جاری ہے جس کے بعد دنیا بھر اسکے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے باعث سفری پابندیاں لگا رہی ہے۔اومی کرون وائرس اب تک 80 سے زیادہ ممالک میں اپنے پنجے گاڑھ چکا ہے اور برطانیہ پہلا ملک ہے جہاں اومی کرون کے باعث پہلا مریض بھی انتقال کرچکا ہے۔جسکی وجہ سے برطانوی حکومت نے مزید پابندیاں لگانے کا خدشہ ظاہر کردیا ہے۔

 

خیال رہے کہ برطانوی حکومت نے کرسمس کے موقع پر ہونے والی ٹن ڈاؤننگ سٹریٹ میں تقریب بھی منسوح کردی ہے تاکہ نئے آنے والے وائرس کے پھیلاؤ سے بچا جاسکےتاہم اسی سلسلے کے پیش نظر ایک بار پھر برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے پابندیاں مزید سخت کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

 

اسرائیل نے امریکا پر سفری پابندیاں لگادیں