پنجاب سیف سٹی کے کیمرے دو سال بعد بھی ٹھیک نہ ہو سکے

پنجاب سیف سٹی کے کیمرے دو سال بعد بھی ٹھیک نہ ہو سکے

 

لاہور(نیا ٹائم)پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کیجانب سے لاہورشہر  میں لگائے  گئے کیمرے دو سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی ٹھیک نہ ہوسکے۔

 

پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے پچس فیصد کیمرے خراب ہیں لیکن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ خراب کیمروں کو ٹھیک  کرنے کے لئےغیرملکی نجی کمپنی نےاپنی  رضا مندی  کا اظہار کیا ہے  کہ وہ جلد ہی  کیمروں  کی مرمت کا کام  کرنا شروع کردے گی اور اس کے لئے  پنجاب سیف سٹی اتھارٹی اورنجی کمپنی کے مابین  معاہدہ بھی طے  پایاگیا ہے۔

 

موجودہ ایم ڈی پنجاب سیف سٹی اتھارٹی  اور چیف آپریٹنگ آفیسر کامران خان  کا کہنا تھا کہ لاہورشہر  میں مجموعی طورپر 8 ہزار کیمرے لگائے گئے ہیں جن میں سے  2 ہزار کے قریب خراب ہوئے تھے اور اب ان  کو  ٹھیک کروانے کے لئے ایک غیر ملکی کمپنی سے معاملات  بھی طے پاگئے ہیں۔

 

معاہدے  کےمطابق کیمروں کی دیکھ بھال  کے لئے 5 سال تک کمپنی کی ذمہ داری تھی کہ وہ کیمروں کی دیکھ بھال اوران کی  مرمت  کا کام کریں گے مگربعض وجوہات کی بنا پر کمپنی نے معاہدے کی پاس داری نہیں کی تھی  تاہم اب اس مسئلے کو بھی حل کرلیاگیا ہے۔

 

ذرائع  کا کہنا ہے کہ  سیف سٹی کے کیمرے خراب ہونے کی وجہ سے بیشتر مقامات پرسیف سٹی اتھارٹی کو مانیٹرنگ کرنے میں مشکلات  کاسامنا کرنا پڑتاہے  مگر کیمرے لگائے جانے کی وجہ سے جرائم کی شرح میں کمی بھی آئی  ہے  کیوں کہ سیف سٹی اتھارٹی کیساتھ ساتھ 15 کےنظام  کوبھی  مکمل فعال بنایاگیا ہے جس کے باعث پولیس کوکسی بھی واردات کی صورت میں  فورا آگاہ کیا جاتا ہے۔

 

واضح رہے کہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا آغاز لیگی دور حکومت  میں اس وقت کے  وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی جانب سے کیا گیاتھا اور اس  کے پہلے مرحلے  میں پورے لاہور شہر میں آٹھ ہزار کے قریب کیمرے نصب کیے گئے تھے۔

 

 

کراچی اور ملتان میں ٹریفک حادثات سے 6افراد جاں بحق