وفاقی کابینہ کے اجلاس میں منی بجٹ پیش کئےجانے کاامکان

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں منی بجٹ پیش کئےجانے کاامکان

اسلام آباد (نیاٹائم) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی طرف سے تیار کیا گیا منی بجٹ آج وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق ترمیمی فنانس بل وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا جس میں پچاس ارب روپے کا ٹیکس استثنٰی ختم کرکے  ٹیکس وصولیوں کے اہداف  271 ارب روپے بڑھا کر  6100 ارب روپے تک لے جائے  گے۔

 

پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں ہر مہینے  چار روپے اضافہ کرکے اسے 30 روپے تک لے جایا جائے گا، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی زیادہ یا کم کرنےکا اختیار وزیر اعظم کو دینے کی تجویز ہے۔

تیارکردہ  تجاویزکے مطابق ترقیاتی بجٹ میں دو  سو ارب روپے کی کمی کرنا ہو گی، موبائل فون، اسٹیشنری اور پیک فوڈ پر ٹیکس چھوٹ ختم کیے جانے اور بجلی کے بل میں بھی  آہستہ آہستہ اضافے کی تجویز زیرغور ہے

اس کے علاوہ 800 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح بڑھانے اور لگژری گاڑیوں کی درآمد پر پابندی لگانے کی تجویز بھی ترمیمی بل میں شامل ہے۔

 

ذرائع کے مطابق کتوں اور بلیوں کے لیے درآمد کی جانے والی خوراک پر ڈیوٹی زیادہ کرنے  یا اس پر پابندی عائد کرنے کی تجویزدی گئی ہے جبکہ کاسمیٹکس کے سامان پر ڈیوٹی بڑھانے کی تجویزبھی ترمیمی فنانس بل میں شامل ہے۔

 

ڈبوں میں پیک کھانے پینے کی اشیاء کی درآمد پر پابندی کی تجویز بھی ترمیمی فنانس بل میں شامل  ہے اور موبائل فون پر سیلز کی رعایت ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

 

ذرائع کے مطابق ترمیمی بل کے ذریعے غیر ملکی ڈراموں کی درآمد پر ایڈوانس ٹیکس عائد کیا جا ئے  گا، معیشت کو ڈیجیٹلائز کرنے کیلئے بھی اقدامات زیر غور ہیں، سرکاری عہدہ رکھنے والوں کی ٹیکس تفصیلات عام کرنے، رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو دی گئی رعایت جاری رکھنے کی تجویز بھی شامل  ہیں۔

فنانس بل میں کسٹمز، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس قوانین میں ترامیم کر کے ایف بی آر کلکٹر کے اختیارات میں کمی کی جارہی ہے

 

بجلی بل کی اقساط نہیں ہونگی، نیا حکم جاری