کسی امریکی فوجی یا عہدیدار کیخلاف ایکشن نہیں لیا جائےگا

کسی امریکی فوجی یا عہدیدار کیخلاف ایکشن نہیں لیا جائےگا

امریکا(نیاٹائم ویب ڈیسک):امریکا کی وزارت دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ افغانستان کے صوبے کابل میں ہونے والے ڈرون اٹیک پر کسی امریکی فوجی یا عہدیدار کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا۔

 

پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کو کابل ڈرون حملے سے متعلق رپورٹ ملی جس میں احتساب کی تجویز شامل نہیں تھی۔

 

ترجمان پینٹاگون کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہوا وہ عملدرآمد میں کوتاہی تھی۔ غفلت، بے انتظامی اور ناقص قیادت نہیں تھی۔ وزیر دفاع نے کابل حملے سے متعلق رپورٹ میں دی گئی تجاویز کی منظوری دے دی ہے۔ وزیر دفاع نے مزید احتسابی عمل کے لیے ہدایات جاری نہیں کیں۔

 

واضح رہے کہ اگست میں امریکی ڈرون حملے میں 7 بچوں سمیت 10 معصوم افغان شہری مارے گئے تھے۔
امریکی حکام کی طرف سے پہلے کہا گیا تھا کہ افغانستان کے شہر کابل میں ڈرون حملہ شدت پسندوں کا گڑھ سمجھ کر کیا گیا تھا۔ ابتدائی رپورٹ کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل مکینزی نے اس سے متعلق معافی بھی مانگی تھی۔

 

جبکہ دوسری طرف امریکی ائیر فورس کے انسپکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل سمیع ڈرون حملے کو افسوسناک اوربہت بڑی غلطی قرار دے چکے ہیں۔خیال رہے کہ اگست کے مہینے میں امریکا کی جانب سے کئے جانے والے ڈرون حملے میں داعش کے رہنما کو مارنے کا دعوی ٰ کیا گیا تھا تاہم میڈیارپورٹس آنے کے بعد معلو م پڑا کہ مرنے والے داعش کے دہشتگرد نہیں بلکہ عام شہری تھے۔

 

امریکا نے اتنی بڑی غلطی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرنے والی فیملی سے معذرات کے ساتھ ساتھ انہیں معاوضے کی پیشکش کی تھی جب کہ دوسری جانب متاثرہ فیملی کے لوگوں کو امریکا منتقلی کی آفر بھی کی گئی تھی۔

 

طالبان نے انسانی ہمدردی کی بنیادپر مدد کی اپیل کر دی