کسی دہشتگرد کو بھی ماورائے عدالت قتل نہیں کیا جا سکتا،جسٹس اطہر من اللہ

کسی دہشتگرد کو بھی ماورائے عدالت قتل نہیں کیا جا سکتا،جسٹس اطہر من اللہ

 

اسلام آباد(نیا ٹائم) اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ  نے ریمارکس دیے ہیں کہ کسی  دہشت گرد کو بھی ماورائے عدالت قتل نہیں کیا جا سکتا۔

 

اسلام آبادہائیکورٹ میں  لاپتہ صحافی وبلاگر مدثر نارو کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔اٹارنی جنرل آف پاکستان  خالد جاوید خان نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم پرصحافی  مدثر نارو کی فیملی کی ملاقات وزیراعظم  عمران خان سے کروا دی گئی ہے اور اس معاملے پر وزیراعظم  کیجانب سے ہدایات بھی جاری کر دیں گئیں ہیں ۔اٹارنی جنرل کا مزید کہنا تھا کہ  ہم اس کیس کو سیریس لے رہے ہیں۔ہمیں کچھ وقت دے دیا جائے تاکہ اس کی  مفصل رپورٹ جمع کروائی جا سکے۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے  بہت شرمندگی کا اظہار کیا گیا جب  وہ صحافی مدثر نارو کی فیملی سے ملے۔ اگر مدثر نارو حکومتی پالیسیوں پر پر تنقید کرتا  بھی تھا تو یہ کوئی جرم نہیں ہے۔

 

چیف جسٹس اسلام آباد  ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہاں کوئی احتساب نہیں ہے۔لاپتہ افراد کے لئے ایک کمیشن بنا ہے فیملیز  وہاں جاتی ہیں وہ تاریخ دے دیتے ہیں۔ یہاں ہزاروں لاپتہ افراد کے خاندان ہیں ان کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہے  یہاں کوئی ریاست کے اندر ریاست نہیں  ہے ۔یہاں ایک آئین ہے  ایک قانون ہے  یہاں آج تک اس قسم کےکیسز میں کوئی تحقیقات نہیں ہو سکیں۔ ریاست اس کی ذمہ دار ہے اب یہ معاملہ ختم ہونا چاہیے ۔اگر دہشت گرد بھی ہو تو اس کو بھی آپ ماورائے عدالت قتل نہیں کر سکتے۔ کون یہ طے کرے گا کہ یہ دہشت گرد ہے یا نہیں۔ کل کو ایس ایچ او کہے گا کہ دوسرا میرے خلاف بات کر رہا ہے اس کو اٹھا لو۔اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ وفاقی حکومت کیلئے مسئلہ یہ ہے کہ انہیں  نیشنل سیکورٹی کا خیال بھی  رکھنا ہے،آرٹیکل  سکس کے تحت جن کو سزا ہو چکی ہم تو اس پر بھی عمل نہیں کرا سکے۔

 

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ  نے  دوران سماعت ریمارکس دیے کہ ہم اس پر پھر فیصلہ کر دیتے ہیں کہ جتنے بھی چیف ایگزیکٹو گزرے یا  ہیں ہم ان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔اٹارنی جنرل  کی جانب سے  اعتراض اٹھایا گیا  کہ پھر صرف چیف ایگزیکٹو ہی کیوں سب کو ذمہ دار ہونا چاہیے۔ کچھ بیماریوں کا علاج صرف عدالتی فیصلوں سے نہیں ہوتا یہ ان میں سے ایک ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالتی فیصلوں سے بھی علاج ہوتا ہے اگر ذمہ داروں کا تعین کر لیا جائے جب تاثر یہ ہو کہ ریاست ان  جرائم  میں شامل ہے تو اس سے سیریس  کچھ نہیں ہو سکتا ۔جنہوں نے مانا ہے ان کے خلاف کارروائی کرکے تو یہ کام شروع کر سکتے ہیں۔

 

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان  نے  مزیدکہا کہ میں اس معاملے میں  عدالت کی معاونت کروں گا ۔ میں بھی رول آف لا اور جمہوریت کو سپورٹ کرتا ہوں۔عدالت نے کیس کی سماعت  اٹھارہ جنوری تک ملتوی کردی۔

 

 

اسلاموفوبیا کے بڑھتے رجحانات معاشرے کیلئے زہر قاتل ہیں