جعلی عامل ، ڈاکٹر معاشرے کا ناسُور

جعلی عامل ، ڈاکٹر معاشرے کا ناسُور

دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہم سے کہیں آگے نکل گئی ہے اور ہماری قوم ابھی تک پِیری فقیری اور تعویز گنڈے کے چکروں میں پڑی ہوئی ہے۔ آئے روز اخبارات اور ٹی وی چینلز پرجعلی پیروں کے دھوکوں کی خبروں کی بھرمار ہوتی ہے۔ مگر پھر بھی ہمارے معاشرے کے کم تعلیم یافتہ افراد ان جعلی عاملوں سے فیض حاصل کرنے کے لیے اپنی آبرو پامال کراتے پھرتے ہیں۔جہاں ایک طرف لوگ نام نہاد جعلی عاملوں اور پیروں فقیروں کے در پہ چکر لگاتے ہیں تو دوسری طرف عطائی ڈاکٹرعوام کی چمڑی اُدھیڑنے میں مصروف ہیں۔ ہر گلی کُوچہ ان جعلی ڈاکٹروں کے کلینکس سے بھرا پڑا ہے۔ نہ جانے انتظامیہ ان دونوں جعلی طبقوں کے خلاف کوئی کاروائی کرنے سے کیوں گُریزاں ہے ؟ 

 

جہاں تک جعلی عاملوں کا سوال ہے تو ہم لوگ خود ان کو مشہور اور بڑی شخصیات بنانے کی بڑی وجہ ہیں کیونکہ ہمارے عوام کم تعلیم یافتہ ہیں اس لیے شاید اچھے برے کی تمیز کرنے سے قاصر ہیں۔دوسری طرف باقی کسر ہمارے گلی محلوں میں دکان سجائے ڈاکٹرز نکال دیتے ہیں۔ ان لوگوں کے لیے کاروبار کا آسان ذریعہ ہمارے دیہات ہیں جہاں شرح خواندگی کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے۔ دیہاتوں میں تو جگہ جگہ ہمیں ایسے کلینکس نظر آتے ہیں جن کو چلانے والے شاید ہی کسی قسم کی ڈگری رکھتے ہوں۔ ان کلینکس کو چلانے کے لیے بس کچھ عرصہ کسی میڈیکل سٹور پہ کام کرنا ضروری ہے تاکہ آپ کو کچھ دوائیوں کے نام اور فنگشن کے بارے علم ہوسکے کہ کون سی دوائی کون سے مرض کے لیے ہے۔ اس کے  بعد آپ کسی بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹر سے زیادہ کمائی کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

 

اب آتے ہیں جعلی عاملوں کی طرف تو اس کے لیے تو کسی قسم کی تعلیم کا ہونا بھی ضروری نہیں ہے بس کچھ عرصہ کے لیے نہانے دھونے سے پرہیز کرنے اور بال لمبے کرنے کے بعد ایک پہنچا ہوا عامل تیار ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے سب سے بڑی چیز جو ضروری ہے کہ کسی ایسے علاقے کا رُخ کیا جائے جہاں پر آپ کو کوئی نہ جانتا ہو۔ پھر دیکھیں کیسے پہنچے ہوئےعامل بابا کے پاس لوگ خود بخود پہنچتے ہیں۔ ایک دفعہ مشہوری ہو جائے پھر اُس علاقے کے کرتے دھرتے اور ملک ، چوہدری ،ایم۔ این۔ اے اور ایم۔پی۔ اے حضرات خود پیر بابا کی حفاظت کریں گے۔ بس اُن لوگوں کے کام مفت میں کرنے پڑیں گے۔

 

جب کسی بھی علاقے کے وڈیرے اس پیر بابا کے ساتھ شامل ہوتے ہیں تو پھر پولیس کی کیا مجال کہ وہ اس بابا کو ہاتھ ڈالے۔ ہر پیر بابا کا طریقہ واردات مختلف ہوتا ہے بس طریقہ ایسا ٹھوس ہونا چاہیئے کہ لوگ جس کو سمجھ نہ سکیں۔ ان جعلی عاملوں کا آسان ہدف خواتین ہوتیں ہیں جن کو طرح طرح کے وسوسے جینے نہیں دیتے۔ کسی کو اپنی ساس سے مسئلہ ہے، کسی کو اپنی نند سے مسئلہ ہے تو کسی کو اولاد کا مسئلہ درپیش ہے۔ بس یہی وہ مسائل ہیں جن کی وجہ سے ہمارے دیہاتوں اور شہروں کی کم تعلیم یافتہ خواتین ان پیروں اور عاملوں کی خدمت میں حاضر ہوتی ہیں۔ یہ خواتین نہ صرف اپنا مالی نقصان کرتی ہیں بلکہ اپنی عزت بھی ان غیر انسانی پِیروں کے قدموں پر نچھاورکردیتی ہیں۔ نہ جانے کتنے ایسے گھرانے ہونگے جو ان نام نہاد عاملوں کے عمل کی بھینٹ چڑھ چکے ہوں گے۔

 

 اور جب بات کی جائے جعلی ڈاکٹروں کی تو یہ سادہ لوح لوگوں کی غربت کا فائدہ بڑی مکاری سے اٹھاتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے ملک کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ مہنگے مہنگے ڈاکٹروں کے پاس جا نہیں سکتا اس لیے مجبوراً یہ لوگ ان لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ اور اپنے مرض کو بجائے کم کرانے کے موت کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں۔ ان ڈاکٹر نما ڈاکٹروں کی مثال یوں ہے کہ ۔۔۔

 مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔۔۔۔۔

 

کیونکہ یہ ڈاکٹر جہاں ایک طرف تو پیشہ ورانہ تعلیم سےعاری ہوتے ہیں تو دوسری طرف جعلی ادویات کو بیچنے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے۔ ظاہر ہے جب ڈاکٹر بھی جعلی ہو گا تو دوائی اور علاج بھی تو جعلی ہی ہو گا۔ نتیجتاً مریض جلد ہی اپنی زندگی سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ان دونوں معاشرتی مسائل میں ایک طرف تو ہمارا معاشرہ ذمہ دار ہے وہاں ہمارا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بھی برابر کا شریکِ جُرم ہے۔ کیونکہ ایک طرف تو میڈیا ان جعلی عاملوں ، پیروں ، ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کے خلاف خبریں اور رپورٹس نشر کرتا ہے تو دوسری طرف چند ہزار روپوں کی خاطر ان جیسے دوسرے لوگوں کی تشہیر کا باعث بھی ہے۔ اور تو اور ہمارے شہروں اور دیہاتوں کی دیواروں پر بھی دھڑا دھڑ ان جعلی لوگوں کے بڑے بڑے اشتہارات دکھائی دیتے ہیں جو کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

 

ہم ایک ایسے معاشرے اور ماحول میں رہ رہے ہیں جہاں پر حلال کے نام پہ حرام اور اصلی کے نام پہ نقلی چیز با آسانی بِک جاتی ہے تو پھر کاروبار کرنے والوں کو خواہ مخواہ ایک نمبر اور اصلی چیز بیچنے کی کیا ضرورت ہے ؟ کچھ عرصہ قبل عوام کو گدھے اور کُتے بھی کھِلا دیے گئے اور مجرم پکڑے بھی گئے لیکن تا حال کوئی کاروائی سامنے نہیں آئی۔ اب ہم خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ جرائم جعلی عاملوں اور جعلی ڈاکٹروں کے جرائم سے کس قدر بڑے اور ناقابلِ معافی ہیں جب ان کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا جاتا تو پھر دوسرے جرائم کے خلاف کارروائی کیسے ہو سکتی ہے؟اِن تمام برائیوں کو ایک ہی صورت میں ختم کیا جا سکتا ہے جب ہمارے معاشرے کا ایک ایک فرد ان کے خلاف اُٹھ کھڑا ہو اور قانون ساز اداروں کو مجبور کرے کہ ان مجرموں کے لیے ٹھوس اور قابلِ عمل قانون سازی ہو سکے اور انسانیت کے دشمنوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ان باتوں کے ساتھ ساتھ سب سے ضروری چیز تعلیم کو عام کرنا ہے تاکہ ہمارے عوام ایسے جعلسازوں کی چالوں سے خود کو محفوظ رکھ سکیں۔

 

(نوٹ:مندرجہ بالاتحریربلاگرکاذاتی نقطہ نظرہوسکتاہے،ادارہ کااس سے متفق ہوناضروری نہیں)