پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی

پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی

ٹی 20 ورلڈ کپ سے کچھ ہی دن قبل نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا پاکستان آ کر میچ شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے اپنا دورہ منسوخ کر کے واپس اپنے ملک چلے جانے سے وہ قوتیں وقتی طور پر کامیاب رہیں جو کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی خواہش رکھتی ہیں ۔

 

پاکستان میں درحقیقت انٹرنیشنل کرکٹ ختم ہوئے بیس سال ہو چکے ہیں کیونکہ آخری بار بھی نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے 2002 کے دورہ میں کراچی میں فرانسیسی انجینرز کے ہوٹل کے سامنے بم دھماکے کے نتیجے میں نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم اپنا دورہ ادھورا چھوڑ کر چلی گئی تھی ۔

 

اسکے بعد خدا خدا کر کے 2009 میں سری لنکا نے اپنی کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجی مگر بدقسمتی سے لاہور میں اس پر دہشت گرد حملے کے بعد تو بین الاقوامی کرکٹ کے تمام دروازے ہی بند ہو گئے ، پھر آہستہ آہستہ پی ایس ایل کی پاکستان میں واپسی اور زمبابوے اور ویسٹ انڈیز کی جونئیر ٹیموں کی آمد سے راستے کچھ ہموار ہوئے تھے مگر نیوزی لینڈ کے دورے کی منسوخی کے بعد انگلینڈ اور آسٹریلیا کے کرکٹ بورڈز کے بھی اپنی ٹیموں کو پاکستان بھیجنے سے انکار پر دوبارہ مایوسی چھا گئی ، مگر دوران ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ آسٹریلیا کے دوبارہ پاکستان آنے کی حامی بھرنے سے دوبارہ امید کی کرن پیدا ہو گئی ہے کہ اب شاید پاکستان میں ایک بار پھر کرکٹ کے میدانوں میں بین الاقوامی کرکٹ بحال ہو جائے ۔

 

کیونکہ چھوٹے ممالک کی ٹیموں جیسا کہ بنگلہ دیش ، سری لنکا ، جنوبی افریقہ ، زمبابوے اور ویسٹ انڈیز کے پاکستان کے دوروں کو بڑی کرکٹ ٹیمیں اہمیت ہی نہیں دیتیں ۔اگلے سال آسٹریلیا کی ٹیم پاکستان آ رہی ہے اور یہ آسٹریلیا کا 1997 کے بعد پہلا دورہ ہو گا ۔

 

دہشت گردی کے خلاف بیس سالہ طویل جنگ نے پاکستان کو جہاں جانی و مالی نقصان تو پہنچایا ہی ہے وہیں پر کھیلوں اور دوسرے تفریحی شعبوں کو بھی نا قابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔پاکستان کے خلاف لڑنے والی قوتیں ہر طرح سے پاکستان کو تنہا کرنے کے درپے تھیں مگر پاکستانی قوم نے ملکر انکا مقابلہ کیا ہے اور آج پاکستان کا شمار پھر سے دنیا کے پُرامن ممالک میں ہونا شروع ہو گیا ہے ۔ پی ایس ایل کی کامیابی نے دنیا کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ پاکستان کو کرکٹ سے جُدا نہیں رکھ سکتے ، بلاشبہ پی ایس ایل کو دنیا کی تمام لیگ کرکٹ میں ایک امتیازی حیثیت حاصل ہو چکی ہے اور آج دنیائے کرکٹ کے بڑے بڑے کھلاڑی پی ایس ایل کھیلنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔

 

اُدھر آئی سی سی نے بھی 2025 میں ہونے والی چمپیئن ٹرافی کی میزبانی پاکستان کو دینے کا اعلان کر رکھا ہے لہٰذا آنے والے تین سے چار سال پاکستان کرکٹ کے لیے بہت اہم ہیں کیونکہ ان تین چار سالوں کے دوران پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کا تسلسل کے ساتھ ہونا بہت ضروری ہے ۔

 

ابھی اسی مہینے ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم پاکستان کا دورہ کرنے والی ہے جس میں وہ تین ون ڈے اور تین ٹی ٹونٹی میچ کھیلے گی ۔اگلے سال یعنی 2022 میں آسٹریلیا ، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے پاکستان کے دورے شیڈول ہیں ، سب سے پہلے آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم مارچ ، اپریل میں پاکستان کے ساتھ تین ٹیسٹ ، تین ون ڈے اور ایک ٹی ٹونٹی میچ کھیلے گی اسکے بعد انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم اکتوبر میں پانچ ون ڈے میچ کھیلے گی جبکہ سال 2022 کے اکتوبر نومبر میں ہی نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم دو ٹیسٹ اور تین ون ڈے میچ کھیلنے کے لیے پاکستان کا دور کرے گی۔ مزید سال کے آخر میں انگلینڈ کی ٹیم تین ٹیسٹ میچ کھیلنے پاکستان آئے گی ۔ یوں ہم کہہ سکتے کہ آنے والا سال پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کا سال ہو گا ۔

 

پی ایس ایل کا پاکستان میں تواتر سے ہونا بھی پاکستان میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو بحال رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔

 

 

دراصل پاکستان کی دشمن قوتیں کبھی بھی نہیں چاہتیں کہ پاکستان دوبارہ سے کرکٹ سمیت دوسرے کھیلوں کی میزبانی حاصل کر سکے ، اسکے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں جیسا کہ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کو فیک ای میلز کے ذریعے دہشت گرد حملے سے ڈرایا گیا اور یوں نیوزی لینڈ کی ٹیم بغیر کوئی میچ کھیلے واپس چلی گئی مگر بعد میں ساری دنیا پر یہ بات عیاں ہو گئی کہ ساری ای میلز جعلی تھیں اور یہ پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش کا حصہ تھیں ۔

 

(نوٹ:مندرجہ بالاتحریربلاگرکاذاتی نقطہ نظرہے،ادارہ کااس سےمتفق ہوناضروری نہیں)