خاتون کو جنسی ہراساں کرنے پر کے ایم سی کے 2 ڈپٹی ڈائریکٹرز معطل

خاتون کو جنسی ہراساں کرنے پر کے ایم سی کے 2 ڈپٹی ڈائریکٹرز معطل

کراچی ( نیا ٹائم ) گھر گرانے کی دھمکیاں دے کر خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کے دو ڈپٹی ڈائریکٹرز معطل کر دئیے گئے ۔ کراچی میں گجر نالے کے قریب رہنے والی خاتون نے دونوں افسران پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے اسے جنسی طور پر ہراساں کیا تھا ، خاتون کے الزام سامنے آنے پر واقعہ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے ۔

خاتون نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے دو ڈپٹی ڈائریکٹرز عارف قاضی اور مسرور اقبال پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے گجر نالہ پر تجاوزات کے خاتمے کے آپریشن کے دوران اسے جنسی طور پر ہراساں کیا تھا ۔ کے ایم سی نے دونوں ڈپٹی ڈائریکٹرز کو معطل کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے ۔

دونوں افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے گجر نالہ متاثرین کی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا ۔ عارف قاضی ڈپٹی ڈائریکٹر کچی آبادی جبکہ مسرور اقبال انسداد تجاوزات ایسٹ میں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر تعینات تھے ۔ کے ایم سی ذرائع کے مطابق ایک خاتون نے دونوں افسران کے خلاف شکایت درج کروائی تھی کہ نالوں پر تجاوزات کے خلاف کارروائی کے دوران گھر بچانے کے لیے اس سے رشوت طلب کی گئی ، رشوت کے ساتھ ساتھ خاتون کو جنسی طور پر بھی ہراساں کیا گیا ۔ خاتون نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کے پاس دونوں افسران کے میسجز اور وائس ریکارڈنگز بھی موجود ہیں ۔

کے ایم سی نے دونوں افسروں کو معطل کر کے معاملے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔ کمیٹی حقائق کا جائزہ لے کر پانچ دن کے اندر رپورٹ جمع کروائے گی ۔

کمیٹی میں عذرا مقیم ، غلام مرتضیٰ بھٹو اور عرفان سلام شامل ہیں ۔ ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ مبینہ طور پر دونوں افسران نے خاتون سے رشوت طلب کرنے کے ساتھ ساتھ اسے جنسی طور پر بھی ہراساں کیا ۔ معاملے کی تحقیقات کے حوالے سے کمیٹی بنا دی گئی ہے ۔ معاملے کو کوئی سیاسی رنگ دئیے بغیر شفاف تحقیقات کی جائیں گی ۔

انہوں نے کہا کہ ایسی کسی بھی نازیبا حرکت کو قبول نہیں کیا جا سکتا ۔ انکوائری کے دوران اگر دونوں افسران ملوث پائے گئے تو ان کے خلاف سخت قانونی و محکمانہ کارروائی عمل میں  لائی جائے گی ۔

 

کھاریاں میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد قتل