وفاق اور صوبے اختیارات کے معاملے پر آمنے سامنے

وفاق اور صوبے اختیارات کے معاملے پر آمنے سامنے

اسلام آباد ( نیا ٹائم ) صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کے حوالے سے وفاق اور صوبوں کے درمیان اختلاف سامنے آ گئے ۔ صوبائی حکومتوں نے وفاقی حکومت کے اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے جواب دینے سے بھی انکار کر دیا ۔ صوبوں کے عدم تعاون کے باعث اختیارات کی منتقلی کا عمل معطل ہو گیا ۔

ذرائع مطابق کابینہ اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان کی ہدایات کی روشنی میں وزارت بین الصوبائی نے صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کے حوالے سے تحریری طور پر آگاہ کیا ، اس ضمن میں وزارت بین الصوبائی رابطہ امور نے صوبوں سے تجاویز بھی طلب کیں لیکن صوبوں کی جانب سے موثر جواب  نہ دینے کے باعث اس اہم معاملے میں کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی ۔

وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان مسائل کے حل اور صوبوں کو بااختیار بنانے کے حوالے سے جامع پلان تشکیل دینے کے لیے حمت عملی تیار کر لی گئی ۔ وزیر اعظم نے وزارت بین الصوبائی رابطہ کو ہدایت کی کہ مشترکہ مفادات کونسل ، کونسل آف کامن انٹرسٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان سپورٹس بورڈ ، پاکستان کرکٹ بورڈ ، پاکستان ویٹرنری اینڈ میڈیکل کونسل ، گن اینڈ کنٹری کلب ، ڈیپارٹمنٹ آف ٹورسٹ سروسز ، فیڈرل لینڈ کمیشن کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے اور وفاق کے زیر کنٹرول اداروں کو بھی فعال کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں ۔

وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ امور ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا ہے کہ وفاق صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہے تاہم صوبے تعاون نہیں کر رہے ۔ مشترکہ مفادا کونسل کے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے حوالے سے سمریاں اور تجاویز اور دیگر ادارتی دستاویزات صوبوں کو بھجوائی جاتی ہیں لیکن ان کی جانب سے کوئی بھی موثر جواب نہیں دیا جاتا ۔

وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ امور ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا مزید کہنا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کے لیے تین برس گزر گئے ہیں ۔ تاہم موجودہ حکومت ان مسائل کے حل کے لیے پلان تیار کر چکی ہے ۔

 

سعودی عرب سے پاکستان کو 3 ہزار ڈالرموصول