• Thursday, 27 January 2022
سیالکوٹ سانحہ ، سری لنکن منیجر کے قتل میں سنسنی خیز انکشافات

سیالکوٹ سانحہ ، سری لنکن منیجر کے قتل میں سنسنی خیز انکشافات

سیالکوٹ ( نیا ٹائم ) فیکٹری میں سری لنکن منیجر کے قتل  میں پولیس تحقیقات سے گتھیاں سلجھنے لگیں ۔ پولیس تحقیقات کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق مقتول فیکٹری منیجر پریانتھا کمارا اور فیکٹری کے عملے کے درمیان اکثر تکرار ہوتی رہتی تھی ۔ فیکٹری ورکرز اور سپروائزرز بھی کئی بار مالکان سے پریانتھا کمارا کے خلاف شکایات کر چکے تھے ۔ واقعہ کے روز بھی مقتول پریانتھا کمارا نے فیکٹری کے پروڈکشن یونٹ میں ناقص صفائی کی صورتحال پر ورکرز اور سپروائزرز کی سرزنش کی تھی ۔

پولیس رپورٹ کے مطابق فیکٹری منیجر پریانتھا کمارا نے رنگ و روغن کروانے کی غرض سے ورکرز کو دیواروں سے تمام اشیاء ہٹانے کا کہا تھا اور خود بھی دیواروں سے چیزیں ہٹاتا رہا ۔ اسی دوران دیوار پر لگا ایک مذہبی پوسٹر بھی اتار دیا جس پر ورکرز نے شور مچا دیا ۔ مالکان کی مداخلت پر پریانتھا کمارا نے تمام ورکرز اور سپروائزر سے معذرت بھی کی ۔

تحقیقات کے مطابق پریانتھا کمارا نے صفائی کی ناقص صورتحال پر جس سپروائزر کی سرزنش کی ، ورکرز کو پریانتھا کمارا کے خلاف اشتعال دلانے میں وہی پیش پیش تھا ۔ پولیس کے مطابق پریانتھا کمارا فیکٹری میں بطور جنرل منیجر پروڈکشن اپنی ڈیوٹی ایمانداری اور تندہی سے انجام دیتا تھا ۔ وہ فیکٹری قواعد و ضوابط پر بھی سختی سے عملدرآمد کرواتا تھا جس پر فیکٹری مالکان تو اس سے انتہائی خوش تھے البتہ ورکرز اور سپروائزر اسے اچھا نہیں سمجھتے تھے ۔

پولیس تحقیقات کے مطابق فیکٹری میں رنگ و روغن کی غرض سے صبح 10 بج کر 28 منٹ پر دیوار پر لگے کچھ پوسٹرز اتارے ، جس پر ورکرز اور فیکٹری منیجر کے درمیان معمولی تنازع ہوا ۔ اردو یا پنجابی زبان سے ناآشنائی بھی مقتول کے لیے مزید پریشانی کا باعث بنی ۔ فیکٹری مالکان نے مداخلت کر کے فیکٹری منیجر اور ملازمین کے درمیان تنازع حل کروا دیا ۔ فیکٹری منیجر نے ورکرز سے معذرت بھی کی تاہم کچھ ملازمین نے اس کے خلاف دیگر لوگوں کو بھی اشتعال دلایا اور انہوں نے منیجر پر تشدد کرنا شروع کر دیا ۔

تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی فوٹیج کے مطابق صبح 10 بج کر 40 منٹ پر مشتعل افراد نے منیجر کو عمارت سے نیچے گرایا اور مشتعل افراد اسے گھسیٹ بھی رہے تھے ۔ منیجر کی موت فیکٹری کے اندر ہی ہو چکی تھی ، جس وقت اسے عمارت سے نیچے گرایا گیا وہ اسی وقت بے سدھ ہو گیا تھا ، تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ نیچے گرانے سے ہی منیجر کی موت واقع ہو گئی تھی جس کے بعد مقتول منیجر کی لاش کو مشتعل افراد گھسیٹ کر فیکٹری ایریا سے باہر لائے ۔

گارمنٹ فیکٹری میں 13 سکیورٹی گارڈز بھی تعینات تھے ، جو ورکرز کے مشتعل ہونے کے ساتھ ہی موقع سے فرار ہو گئے ۔ پولیس کو 11 بج کر 28 منٹ پر اطلاع دی گئی ، جس پر مقامی ایس ایچ او جائے وقوعہ پر پہنچ گیا ۔ البتہ بگڑی ہوئی صورتحال کے پیش نظر انہوں نے ڈی پی او کو مطلع کیا جن کی ہدایت پر مزید 27 انسپکٹرز کو بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر بھجوایا ۔

تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ مشتعل افراد کی جانب سے سڑک بند ہونے کے باعث بھی پولیس نفری کو جائے وقوعہ پر پہنچنے میں تاخیر ہوئی ، جبکہ ڈی پی او کو خود بھی پیدل جائے وقوعہ پر پہنچنا پڑا ۔ مگر ان کے پہنچنے سے قبل ہی مشتعل ملازمین پریانتھا کمارا کی لاش جلا چکے تھے ۔

واضح رہے سیالکوٹ کی نجی سپورٹس گارمنٹ فیکٹری میں گزشتہ روز ایک غیر مسلم سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا کو مذہبی پوسٹر اتارنے اور توہین مذہب کا الزام لگا کر تشدد کر کے قتل کر دیا گیا تھا ۔ پریانتھا کمارا جان بچانے کے لیے فیکٹری کی بالائی منزل کی جانب بھاگے جہاں مشتعل فیکٹری ورکرز ان کا پیچھا کیا اور چھت پر گھیر کر تشدد کا نشانہ بنا کر عمارت سے نیچے گرا دیا ۔ مشتعل فیکٹری ملازمین نے پریانتھا کمارا کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش فیکٹری سے باہر چوک میں لے جا کر آگ لگا دی ۔

 

سیالکوٹ واقعہ سری لنکن وزیراعظم کا ردعمل